کتاب: علم حدیث میں اسناد و متن کی تحقیق کے اصول محدثین اور فقہاء کے طرز عمل کی روشنی میں - صفحہ 260
حوالہ جات
(۱) نزہۃ النظر: ص ۲۷
(۲) التقریب والتیسیر: ص ۷ (۳) تدریب الراوی: ص۱۰۹
(۴) التقییدوالایضاح: ص۲۱
(۵) آمدی،أبو الحسن علی بن أبی علی بن محمد: الإحکا فی اصول الاحکام ،[مکتبۃ محمد علی صبیح ،مصر،۱۳۸۷ ھ ۱۹۶۸م] ص۲۰۰، أصول السرخسی: ص۲۹۶
(۶) المنہج المخترع لفہم المصطلح:ص۱۰۵ ، شرح المفاصل:۱؍۸۷
(۷) تیسیر المصطلح: ص۱۵
(۸) اس سلسلہ میں حدیث کی تعریف ملاحظہ فرمائیں:أصول الحدیث وعلومہ ومصطلحہ: ص ۷
(۹) مفردات القرآن از راغب اصفہانی: ۱؍۲۷۷
(۱۰) لطائف الاشارات (شرح) از عبد الحمید بن محمد: ص۸،فخر االدین الرازی ،ابو عبد اللّٰہ محمد بن عمر بن حسین:المحصول فی علم أصول الفقہ/تحقیق د:طہ جاب فیاض العلوانی،[جامعۃ الإمام محمد بن سعود الاسلامیۃ ،الریاض،۱۴۰۱ ھ ]:۱؍۷۸، ابن نجار،محمد بن احمد بن عبد العزیز، شرح الکوکب المنیر/تحقیق محمد الزحیلی،[مکتبۃ العبیکان، الریاض،۱۴۱۳ ھ ۔ ۱۹۹۳م]:ص۱۴
(۱۱) دیکھیں تمام کتب اصول فقہ میں فن فقہا کے’ موضوع ‘کی بحث
(۱۲) تیسیر المصطلح: ص۱۴۷ (۱۳) مقدمۃ أصول تفسیر لابن تیمیہ: ص ۱۹،۲۰
(۱۴) اصلاحی ،امین احسن :مبادی تدبر حدیث،[فاران فاؤنڈیشن ،لاہو ر،۲۰۰۰ء]:ص ۷۰،۷۱
(۱۵) شرح المنار از نسفی: ۲؍۱۱
(۱۶) جامع الاصول، ترجمہ الوجیز: ص ۲۱۱
(۱۷) دیکھیں شرح عقیدہ طحاویہ از امام ابن العز حنفی، مبحث:وہم الخلفاء الراشدون والأئمۃ المہدیّون
(۱۸) نصب الرایہ: ص ۹؍۳۶۵، تلخیص الحبیر: ۵؍۴۷۵
(۱۹) أصول السرخسی: ۲؍ ۱۰۷، الإحکام للآمدی: ۲؍۱۱۹، الإحکام لابن حزم: ۶؍۷۶۶
(۲۰) تیسیر مصطلح الحدیث:ص ۳۲
(۲۱) تیسیر مصطلح الحدیث: ص۵۴ تا۶۰
(۲۲) تدریب الراوی: ۱؍۴۶، النکت لابن حجر: ۱؍۳۷۲
(۲۳) جامع الاصول اردو ترجمہ الوجیز فی أصول الفقہ: ص۶۲۹ تا۶۴۴
(۲۴) إعلام المؤقعین: ۱؍۷۷