کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 991
نفسیاتی بیماری اور دین السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ ہمارے شہر میں ایک متدین شخص ایک نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہوگیا ہے تو بعض لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ دین کی وجہ سے یہ شخص اس بیماری میں مبتلا ہوا ہے،جس کا یہ نتیجہ نکلا کہ اس نے اپنی داڑھی منڈوا دی اور اب نماز بھی اس طرح باقاعدگی سے نہیں پڑھتا جس طرح پہلے پڑھا کرتا تھا،تو سوال یہ ہے کہ کیا یہ کہنا جائز ہے کہ وہ شخص دین میں رسوخ اور احکام دین پر پابندی سے عمل کرنے کی وجہ سے بیمار ہوا،کیا اس طرح کی بات کرنے والے کو کافر قرار دیا جائے گا؟  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! دین کو مضبوطی سے تھامنا کسی مرض کا سبب نہیں بن سکتا بلکہ دین تو دنیا وآخرت کی ہر خیر وبھلائی کا سرچشمہ ہے۔کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ بےوقوف لوگوں کی اس قسم کی باتوں کو صحیح مانے اور نہ یہ جائز ہے کہ ان لوگوں کی باتوں کی وجہ سے داڑھے منذوایاکٹوا دے یانماز باجماعت ادا کرنا ترک کردے۔بلکہ واجب یہ ہے کہ استقامت کے ساتھ حق پر قائم رہے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے غضب وعذاب سے ڈرتے ہوئے ہر اسس چیز سے اجتناب کرے جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَمَن یُطِعِ اللَّـہَ وَرَ‌سُولَہُ یُدْخِلْہُ جَنَّاتٍ تَجْرِ‌ی مِن تَحْتِہَا الْأَنْہَارُ‌ خَالِدِینَ فِیہَا ۚ وَذَٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ ﴿١٣﴾ وَمَن یَعْصِ اللَّـہَ وَرَ‌سُولَہُ وَیَتَعَدَّ حُدُودَہُ یُدْخِلْہُ نَارً‌ا خَالِدًا فِیہَا وَلَہُ عَذَابٌ مُّہِینٌ﴾ (النساء۴/۱۳۔۱۴)   ‘‘اور جو شخص اللہ اوراس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی فرمان برداری کرےگا،اللہ اس کو بہشتوں میں داخل کرےگا جن میں نہریں بہہ رہی ہیں۔وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے اور جو اللہ اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی نافرمانی کرےگااوراس کی حدود سے نکل جائےگا اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ میں ڈالےگاجہاں وہ ہمیشہ رہےگااوراس کو ذلت کا عذاب ہوگا۔’’ اور فرمایا: ﴿وَمَن یَتَّقِ اللَّـہَ یَجْعَل لَّہُ مَخْرَ‌جًا ﴿٢﴾ وَیَرْ‌زُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ﴾ (الطلاق۶۵/۲۔۳) ‘‘اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا،وہ اس کے لئے (رنج ومحن سے) مخلصی کی صورت پیدا کرےگا اوراس کو ایسی جگہ سے رزق دےگاجہاں سے (وہم و) گمان بھی نہ ہو۔’’ نیز فرمایا: ﴿وَمَن یَتَّقِ اللَّـہَ یَجْعَل لَّہُ مِنْ أَمْرِ‌ہِ یُسْرً‌﴾ (الطلاق۴/۶۵) ‘‘اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا،اللہ تعالیٰ اس کے ہر کام میں آسانی کردےگا۔’’ اس مفہوم کی اور بھی بہت سی آیات ہیں۔جو شخص یہ کہتا ہے کہ اس متدین شخص کو دین کی وجہ سے بیماری لاحق ہوئی ہے تو وہ جاہل ہے۔یہ ضروری ہے کہ اس کی اس بات کی تردید کی جائے اور اسے بتایا جائے کہ دین تو سراپا خیر ہے،کسی مسلمان کو اگر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اس کے گناہوں اور غلطیوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔واللہ ولی التوفیق!   مقالات وفتاویٰ ابن باز صفحہ 187