کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 99
(348) مردوں کے لیے سونے کے استعمال کی حرمت السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ مردوں  کے لیے سونے کے استعمال کے حرام  ہونے کا سبب ہے کیونکہ  ہم جانتے ہیں کہ دین اسلام مسلمانوں  کے لیے صرف اسی چیز  کو حرام قراردیتا ہے 'جو اس کے لیے نقصان دہ ہو تو سوال یہ ہے کہ مردوں کے لیے سونے کے زیورات کے استعمال میں کیا نقصان ہے؟ الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! سائل کو معلوم ہونا چاہیے کہ احکام شرعیہ میں ہر مومن کے لیے یہی بات کافی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ اور اس  کے رسول کا فرمان ہے' جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَما کانَ لِمُؤمِنٍ وَلا مُؤمِنَةٍ إِذا قَضَی اللَّہُ وَرَ‌سولُہُ أَمرً‌ا أَن یَکونَ لَہُمُ الخِیَرَ‌ةُ مِن أَمرِ‌ہِم ۗ...﴿٣٦﴾... سورةالاحزاب اور کسی مؤمن مرد  اور مومنہ عورت کو حق نہیں ہے کہ جب اللہ اوراس  کا رسول  کوئی امر  مقرر کردیں تو وہ اس کام میں  اپنا  بھی  کچھ اختیار  سمجھیں۔" لہذا جب ہم سے کوئی شخص یہ سوال کرے گا کہ یہ چیز واجب کیوں ہے اور یہ حرام کیوں ہے تو  ہم کہیں گے کہ اس لیے کہ اسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے واجب یا حرام قراردیا ہے اور ایک مومن  کے لیے بس یہی بات کافی ہے۔ام المؤمنین حضرت  عائشہ رضی اللہ  عنہ  سے جب پوچھا گیا کہ اس کاسبب  کیا ہے کہ  حائضہ  عورت  روزے  کی قضا  تو دیتی ہے مگر نماز کی قضا کا حکم نہیں  دیا جاتا تھا۔" کتاب اللہ یا سنت رسول اللہ کی نص ہر مؤمن  کے لیے علت  موجبہ ہے 'تاہم اس بات میں بھی  کوئی حرج نہیں  کہ انسان حکمت  کو معلوم کرے۔اس سے طمانیت میں اضافہ ہوگا اور احکام کو علل  واسباب کے ساتھ ملانے  سے اسلامی  شریعت کی عظمت  بھی واضح ہوگی  اور پھر علت  کے معلوم ہونے  سے قیاس بھی ممکن  ہوگا' یعنی جب کسی منصوص علیہ  حکم کی علت  کسی دوسرے  غیر منصوص امر میں موجود ہوتو دونوں کا حکم  یکساں ہوگا اورایک کو  دوسرے  پرقیاس کرنا ممکن ہوگا۔ گویا شرعی حکمت معلوم کرنے کے یہ تین فائدے ہیں۔اس تمہید کے بعد ہم اس بھائی کے سوال  کے جواب میں کہیں گے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت  ہے کہ سونا پہننا مردوں  کے لیے حرام  ہے' عورتوں کے لیے حرام نہیں  ہے اور اس کی وجہ یہ  بھی ہے کہ سونا وہ سب  سے اعلیٰ چیز ہے' جسے انسان جمال  اور زینت  کے لیے استعمال کرتا ہے گویا سونا زینت  بھی ہے اور زیور بھی  اور مرد کو اس چیز کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ  رجولیت  کی وجہ  سے وہ فی نفسہ کامل  ہے۔مرد کو ضرورت  نہیں کہ وہ کسی  دوسرے شخص کے لیے زینت  اختیار کرے تاکہ اس  کی طرف اس کی رغبت  ہو' جب کہ اس بات کی ضرورت  ہے کہ اعلیٰ سے اعلیٰ قسم کے زیورات کے ساتھ  حسن وجمال  اختیار  کرے تاکہ  اس سے  اس کے  شوہر  کے  درمیان معاشرت  کے لیے  کشش پیدا ہوسکے ' یہی وجہ  ہے  عورت کے لیے سونے  کے زیورات  کو جائز مگر مرد کے لیے ناجائز قرار دیا  گیاہے۔اللہ تعالیٰ نے عورت کے بارے میں فرمایا ہے: ﴿أَوَمَن یُنَشَّؤُا۟ فِی الحِلیَةِ وَہُوَ فِی الخِصامِ غَیرُ‌ مُبینٍ ﴿١٨﴾... سورةالزخرف "کیا  وہ جو زیور میں پرورش پائے اور جھگڑے  کے وقت بات  نہ کرسکے(اللہ کی بیٹی ہوسکتی ہے؟) اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ شریعت  میں مردوں  کے لیے سونے  کے استعمال کو حرام قرار دینے میں  حکمت کیا ہے۔ چنانچہ  اس مناسبت سے  میں ان متدوں  کو بھی نصیحت  کروں  گا جو سونے  کے زیورات استعمال کرنے میں مبتلا ہوچکے ہیں کہ وہ  اللہ تعالیٰ  اور اس کے  رسول کی نافرمانی  کررہے ہیں ۔انہوں نے اپنے آپ کو  عورتوں  کی صف میں شامل کرلیا ہے اور  اپنے  ہاتھوں میں  وہ سونے کے زیور نہیں بلکہ  آگ  کے انگارے پہن رہے ہیں' جیساکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت  ہے 'لہذاانہیں  چاہیے کہ وہ اللہ سبحانہ  وتعالی کے آگے توبہ کریں اور اگر وہ چاہیں تو حدود شرعیہ کے اندر رہتے ہوئے چاندی  کی انگوٹھی  استعمال کریں کیونکہ اس میں حرج  نہیں ' نیز اس میں کوئی حرج نہیں 'نیز سونے کے علاوہ  دیگر  معدنیات  کی انگوٹھیاں استعمال کرنے میں بھی۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب فتاویٰ اسلامیہ ج4ص273