کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 927
(131) داڑھی کتروانے والے امام کے پیچھے نماز پڑھنا؟ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ ٓج کل مولوی، قاری اور حافظ حضرات فیشنی حجامت والے۔ یعنی ڈاڑھی کترانے، انگریزی بالوں والے مختلف مساجد میں نماز تراویح پڑھا رہے ہیں اور اہل حدیث کہلانے والے ان کی اقتدا میں تراویح پڑھ رہے۔ کیا ایسے قاریوں، حافظوں اور مولویوں کو امام نماز مقرر کر کے ان کی اقتدا میں نمازیں پڑھنا جائز ہے؟ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تارک امام مقرر کرنے جائز ہیں؟ بینواتوجروا (مناظر اسلام حافظ عبدالقادر روپڑی مسجد قدس اہل حدیث لاہور)  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! اس سوال کے جواب سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ڈاڑھی کی شرعی حیثیت پر قدرے روشنی ڈال دی جائے تاکہ بات سمجھنے میں آسانی ہو۔ سو واضح ہونا چاہیے کہ داڑھی امور دین میں سے ایک امر دینی اور شعائر اسلام میں سے ایک اسلامی شعار (امتیازی نشان) اور تمام انبیاء علیہم السلام  کی سنت ہے۔ جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: ۱۔ قالت قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عَشْرٌ مِّنَ الْفِطْرَةِ قص الشارِبِ وَاِعْفَاءُ اللحیة۔۔۔۔۔الحدیث (باب خصال الفطرة: ج۱ص۱۲۹) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دس خصلتیں فطرت میں داخل ہیں: مونچھوں کا ترشوانا اور داڑھی کا بڑھانا مسواک کرنا اور ناک کی کلی کرنا وغیرہ۔‘‘ ۲۔ عن ابی ھریرة قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خَالِفُوا الْمَجُوسَ لأَنَّھُمْ کَانُوا یَقْصُرُوْنَ لُحَاھُم وَیَطُولُونَ الشوارب۔ (اخرجہ مسلم) ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حجامت میں مجوسیوں کی مخالفت کرو وہ داڑھیاں مونڈتتے اور مونچھیں بڑھاتے ہیں یعنی تم ڈاڑھی بڑھاؤ مونچھیں کتراؤ۔‘‘ ۳۔ عَن أبی ہُرَیرة، قَالَ: قَالَ رَسُول اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیہ وَسَلَّم: إن أہل الشرک یعفون شواربہم ویحفون لحاہم فخالفوہم فاعفوا اللحی وأحفوا الشوارب. (أخرج البزاربسند حسن) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرک لوگ اپنی لبیں بڑھاتے ہیں اور ڈاڑھیاں صاف کرتے ہیں تم ان کا خلاف کرو داڑھیاں بڑھاؤ اور لبیں  صاف کرو۔‘‘ ۴۔ عن أنس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إحْفُوا الشَّوَارِبَ وَاعْفُواللحی وَلا تشبھوا بالیھود۔ (اخرجہ الطحاوی فی شرح معانی الاثار) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ  مونچھوں کو کٹواؤ اور داڑھی کو بڑھاؤ اور یہود کے ساتھ مشابہت مت کرو یعنی وہ اس کا الٹ کرتے ہیں کہ مونچھوں کو بڑھاتے اور ڈاڑھی کٹواتے ہیں۔‘‘ ڈاڑھی کٹانا کبیرہ گناہ ہے۔ ڈاڑھی رکھنا واجب ہے: ان احادیث صحیحہ اور حسنہ سے پتہ چلا کہ داڑھی کٹوانا اور مونچھیں بڑھانا مجوسیوں، مشرکوں اور یہودیوں کی تہذیب ہے اور ہمیں ان کی مخالف کرنے کا حکم ہے۔ پس جو شخص داڑھی صاف کرتا ہے، اور مونچھیں دراز کرتا ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل اسلام کی مخالفت اور یہودومجوس اور اہل شرک کے ساتھ موافقت کا مرتکب ہوتا ہے۔ جبکہ داڑھی رکھنا شرعاً واجب ہے۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ کثیرہ اس کے وجوب پر دلالت کرتی ہے۔ امام نووی صحیح مسلم کی شرح میں ارقام فرماتے ہیں: ۱۔ فَحَصَلَ خَمْسُ رِوَایَاتٍ أَعْفُوا وَأَوْفُوا وَأَرْخُوا وَأَرْجُوا وَوَفِّرُوا وَمَعْنَاہَا کُلُّہَا تَرْکُہَا عَلَی حَالِہَا ہَذَا ہُوَ الظَّاہِرُ مِنَ الْحَدِیثِ الَّذِی تَقْتَضِیہِ أَلْفَاظُہُ وَہُوَ الَّذِی قَالَہُ جَمَاعَةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا۔ (نووی: ج۱ص۱۲۹) کہ حدیث کے راویوں سے مختلف الفاظ میں پانچ روایات مروی ہیں جو کہ پانچوں کی پانچوں صیغہ ہائے امر،۔ یونی اعفوا، اوفواارجوااور دو افراد پر مشتمل ہیں اور امروجوب کے لیے ہوتا ہے بشرطیکہ وہاں کوئی قرینہ صارفہ موجود نہ ہو۔ (اور یہاں کوئی قرینہ صارفہ موجود نہیں) لہٰذا ان پانچوں صیغوں کا معنی یہ ہے کہ داڑھی کو بلا کسی  تعرض کے اس کے حال پر چھوڑ دینا واجب ہے اور یہی معنی متبادر اور ظاہر ہے اور حدیث کے الفاظ بھی اس معنی سے مقتضی ہیں۔ ۲۔ امام ابن دقیق داڑھی کا شرعی حکم بیان کرتے ہوئے یہ تصریح فرماتے ہیں: وقد وردت الاحادیث الکثیرة الصحیحة الصریحة فی الامر باعقاء اللحیة اخرجھا ائمة السنة وغیرھم وأصل الامر الوجوب ولا یصرف عنہ إلا بدلیل کما ھو مقرر فی علم الاصول۔ (المنھل العذب المورود شرح سنن ابی داؤد: ج۱ص۱۸۶)، والتعلیقات السلفیة ج۲ص۲۸۵) ’’صحاح ستہ وغیرہ میں بہت سی احادیث صحیحہ میں داڑھی بڑھانے کا حکم دیاگیا ہے اور علم اصول کے مسلمہ قاعدہ کے مطابق جب کوئی قرینہ صارفہ موجود نہ ہو تو امر کا صیغہ وجوب کا فائدہ دیتا ہے چونکہ یہاں کوئی قرینہ صارفہ موجود نہیں، لہٰذا اصولی طور پر داڑھی کا بڑھانا واجب ٹھہرا۔‘‘ ۳۔ امام ابن حزمؒ متوفیٰ ۴۵۲ھ ارقام فرماتے ہیں: وأما فرض قص الشارب وإعفاء اللحیة عن ابن عمر قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خالفوا الم شرکین إحفوا الشوارب واعلو اللحی۔ (المحلی لابن حزم: ج۲ص۲۲۰) ’’کہ مونچھوں کو ترشوانے اور داڑھ کوبڑھانے کی فرضیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے ثابت ہے جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ مشرکین کی مخالف میں مونچھیں ترشواؤ اور داڑھیوں کو بڑھاؤ۔‘‘ ۴۔ الشیخ محمد بن صالح العثیمین داڑھی کے وجوب پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ولیس إبقاء اللحیة من الامور العادیة کما یظنہ بعض الناس وإنما ھو من الامور التعبدیة التی أمرھا بھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والأصل فی او او أمر النبی صلی اللہ علیہ وسلم التعبد والوجوب حتی یَقُومَ الدَّلِیل علی خلاف ذَلِک۔ (الضیاءاللامع: ص۱۲۴،۱۲۵) ’’کہ تجدید زدہ اور ترقی گزیدہ لوگوں کا یہ گمان درست نہیں کہ داڑھی رکھنا محض ایک عادت اور رواج تھا۔ کیونکہ یہ سراسر ایک تعبدی امر ہے جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوامرتعبد اور وجوب کا حکم رکھتے ہیں بشرطیکہ کوئی مخالف دلیل موجود نہ ہوجو یہاں موجود نہیں لہٰذا داڑھی کابڑھانا واجب ہے۔‘‘ ان احادیث صحیحہ اور جہاندیدہ محدثین اور علمائے اصول کی تصریحات کے مطابق داڑھی کا رکھنا واجب شرعی ہے اور اس کا ترشوانا مشرکوں، مجوسیوں، یہود وہنود اور ملگوں تلگون کا طریقہ ہے جو شریعت کے صریحاً خلاف ہے اور وجوب شرعی کا عملی انکار ہے۔ پس جب داڑھی امور دین سے ایک امر دینی، انبیاء کی سنت، اسلام کا شعار اور شرعاً واجب اور فرض ہے اور ایسے واجب شرعی کے تارک کو فرض نماز اور تراویح کی نماز کا امام مقرر کرنا کیونکر جائز ہوسکتا ہے؟ اور ایسے شخص کو پیش امام مقرر کرنا شریعت کی صریح مخالفت اور وَمَنْ یُشاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدی کی شفاعت کا کھلا ارتکاب ہے: کیونکہ امامت کا منصب جلیل اتنا مقدس، اس قدر حساس اور نازک ہے کہ اسلامی شکل وصورت رکھنے والا متقی اور پابند شریعت صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قبلہ رخ تھوک بیٹھا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو امامت کے منصب رفیع سے معزول کر دیا تھا، جیسا کہ احادیث کی کتابوں میں روایات مروی ہیں۔ پڑھئے اور امامت کے منصب کی اہمیت کا اندازہ لگائیے: عَنِ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ أَنَّ رَجُلًا أَمَّ قَوْمًا فَبَصَقَ فِی الْقِبْلَةِ وَرَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَنْظُرُ إِلَیْہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَ فَرَغَ: "لَا یُصَلِّی لَکُمْ" فَأَرَادَ بَعْدَ ذَلِکَ أَنْ یُصَلِّیَ لَہُمْ فَمَنَعُوہُ وَأَخْبَرُوہُ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذُکِرَ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فقَالَ: "نَعَمْ إنک اذیت اللہ ورسولہ۔ (اخرجہ ابو داؤد وسکت علی والمنذری۔ عون المعبود (ج۱ص۱۸۱ ونیل الاوطار ج۳ص۱۸۶ باب ما جاء فی امامة الفاسق) یعنی ایک شخص نے نماز پڑھاتے ہوئے قبلہ کی طرف تھوک دیا جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں یہ شخص دوبارہ نماز نہ پڑھائے۔ چنانچہ جب وہ امام دوبارہ جماعت کرانے کے لیے تیار ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کی اقتدا میں نماز پڑھنے سے انکار کرتے ہوئے اسے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو امامت سے معزول کر دیا ہے، لہٰذا اب آپ ہمارے امام نہیں بن سکتے، تو اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رابطہ قائم کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاں میں جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ نے قبلہ کی جانب تھوک کر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو تکلیف دی ہے۔ لہٰذا آپ امامت کے اہل نہیں رہے۔ یہ حدیث ابن حبان میں بھی مروی ہے۔ دیکھئے زوائد ابن حبان ص۲۰۳۔ دوسری حدیث: عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو، [ص:44] قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلًا یُصَلِّی لِلنَّاسِ صَلَاةَ الظُّہْرِ، فَتَفَلَ فِی الْقِبْلَةِ وَہُوَ یُصَلِّی لِلنَّاسِ، فَلَمَّا کَانَ صَلَاةُ الْعَصْرِ أَرْسَلَ إِلَی آخَرَ، فَأَشْفَقَ الرَّجُلُ الْأَوَّلُ، فَجَاءَ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: یَا رَسُولُ أَنَزَلَ فیَّ؟، قَالَ: «لَا، وَلَکِنَّکَ تَفَلْتَ بَیْنَ یَدَیْکَ، وَأَنْتَ تَؤُمُّ النَّاسَ، فَآذَیْتَ اللہَ وَمَلَائِکَتَہُ» (رواہ الطبرانی فی الکبیر باسناد یعید، عون المعبود: ج۱ص۱۸۱) ’’یعنی ظہر کی نماز پڑھانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو مقرر فرمایا تو اس نے نماز پڑھاتے ہوئے اپنے سامنے یعنی قبلہ رخ تھوک دیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اس غلط فعل کی وجہ سے عصر کی نماز کے لیے ایک دوسرے آدمی کو حکم دیا۔ جب اس آدمی نے آپ سے اپنی معزولی کی وجہ پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نےنماز کے دوران قبلہ رو تھوک کر اللہ اور اس کے ملائکہ کو تکلیف دی ہے۔‘‘ ان دونوں احادیث سے ثابت ہوا کہ جب آپ نے اپنے صحابی کو اس غلطی (قبلہ رخ تھوکنا) جو کہ داڑھی ترشوانے اور انگریزی حجامت کے مقابلہ میں بالکل معمولی اور نہ ہونے کے برابر غلطی ہے کی وجہ سے امامت سے ہٹا دیا تھا تو پھر انگریزی بالوں والا اور داڑھی ترشوانے والا حافظ، قاری اور فیشنی مولوی امامت کا اہل کیسے ہوسکتا ہے۔ حق امامت صرف متقی پابند شریعت، افضل اور بہتر آدمی کو ہی پہنچتا ہے۔ تیسری حدیث: عن مَرْثَدٍ الْغَنَوِیِّ عَنْہُ - صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ -: «إنْ سَرَّکُمْ أَنْ تُقْبَلُ صَلَاتُکُمْ فَلْیَؤُمَّکُمْ خِیَارُکُمْ، فَإِنَّہُمْ وَفْدُکُمْ فِیمَا بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ رَبِّکُمْ» (اخرجہ الحاکم فی ترجمةمرثد الغنوی۔ نیل الاوطار: ج۳ص۱۸۶) ’’اگر تمہیں یہ پسند ہے کہ تمہاری نمازیں مقبول ہوں تو پھر تمہارے لیے ضروری ہے کہ تمہارے پیش امام سب سے بہتر اور پابند شریعت ہوں کیونکہ امام نماز تمہارے درمیان اور اللہ کے درمیان سفیر اور نمائندہ ہوتا ہے۔‘‘ چوتھی حدیث: عن ابن عباس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إِجْعَلُوْا أَئِمَّتَکُمْ خِیَارَکُمْ فَإِنَّھُمْ وَفْدُکُم بَیْنَکُمُ وَبَیْنَ رَبِّکُم۔ (رواة الدار قطنی وفی اسنادہ سلام بن سلیمان وھو ضعیف کذا فی نیل الاوطار ج۳ص۱۸۴) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا امام صلوۃ اپنے میں سے نیک اور اچھے آدمیوں کو بناؤ کیونکہ امام تمہارے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان تمہاری نمائندگی کرتے ہیں۔‘‘ اور ظاہر ہے کہ نمائندگی اس کی قبول ہوتی ہے جو شخص قوم اور سلطان دونوں کے معیار پر پورا اترتا ہو۔ جب نمازیوں کا نمائندہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نافرمان اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چور ہوگا تو اس کی نمائندگی کیونکر قبول ہوگی؟ خلاصہ بحث یہ کہ داڑھی چونکہ امور دینیہ میں سے ایک شعار، تمام پیغمبروں کی سنت دائمہ اور ثابتہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری شریعت میں اس کا رکھنا اور بڑھانا واجب شرعی ہے۔ لہٰذا اس کو منڈانے والا، ترشوانےوالا چونکہ واجب شرعی کا تارک ہے ، لہٰذا ایسے فاسق اور نافرمان اور گستاخ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرائض اور نوافل (تراویح وغیرہ) امام مقرر کرنا اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح احکام وفرامین کی کھلی نافرمانی ہے اور داڑھی کے چوروں کی حوصلہ افزائی بھی ہے جو کہ مزید برآں جرم عظیم ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت دے اور سنت رسول کی پوری پوری پابندی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین! ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب فتاویٰ محمدیہ ج1ص442