کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 921
(03)گھر کی زینت کے لیے رکھے ہوئے مجسموں کا کیا حکم ہے السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ ایسے مجسموں کا کیا حکم ہے جو گھروں میں محض زینت کے لیے رکھے جاتے ہے جبکہ ان کی عبادت نہیں ہوتی؟  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!  گھروں میں دفتروں میں مجالس میں تصاویر یا حنوط شدہ حیوانات آویزں کرنا جائز نہیں۔ لٹکانے حرمت پر دلالت کرتی ہیں۔ اس لیے کہ یہ چیزیں اللہ سے شرک کا ذریعہ ہیں اور اس لیے بھی اللہ کی مخلوق کی مشابہت اور اللہ کے دشمنوں کی نقالی ہے اور حنوط کردہ جانوروں کو آویز اں کرنے میں مال کے ضیاع کے علاوہ اللہ کی دشمنوں کی نقالی بھی ہے ۔ جس سے جانوروں کی تصویر کشی کا دروازہ کھل جاتا ہے جبکہ شریعت اسلامیہ ایسے ذرائع کو مکمل طور پر بند طور کر دیتی ہے جو شرک یا گناہ کے کاموں کی طرف لے جاتے ہیں۔ نوح علیہ السلام کی قوم میں ان کے زمانہ کے پانچ بزرگوں کی تصویر کشی کی وجہ سے ہی شرک رائج ہواتھا ان لوگوں نے ان کے مجسمے اپنی مجلسوں میں نصب کر رکھے تھے۔جیسا کہ اللہ سبحانہ نے اپنی کتاب مبین میں اس کی یوں وضاحت فرمائی ہے کہ: ﴿وَقالوا لا تَذَرُ‌نَّ ءالِہَتَکُم وَلا تَذَرُ‌نَّ وَدًّا وَلا سُواعًا وَلا یَغوثَ وَیَعوقَ وَنَسرً‌ا ﴿٢٣﴾وَقَد أَضَلّوا کَثیرً‌ا ... ﴿٢٤﴾... سورة نوح ’’ اور کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کو ہر گز نہ چھورنا اور ود ، سواع یغوث، یعوق اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا اور انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا ہے‘‘ گویا ایسے لوگوں کیان ناپسندیدہ کاموں سے بـچنا ضروری ہے جس کی وجہ سے وہ شرک میں جا پڑے تھے۔ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالب﷜سے فرمایا: «لا تَدعْ صورة إلَّا طَمسْتہا، ولا قبراً مشرِفًا إلا سوَّ یتہ» ’’ جو بھی تصویر یا مجسمہ دیکھو اسے مٹادو اور جو قبر اونچی دیکھو اسے برابر کردو۔ مسلم نے  اپنی صحیح میں اس حدیث کی تخریج کی ہے نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَشدُّ النَّاس عذاباً یومَ القیامة المصوِّرون» ’’ قیامت کے دن سب سے سخت عذاب مصوروں کو ہوگا‘‘ اس حدیث صحت پر اتفاق ہے اور اس  بارے میں اور بھی بہت سی احادیث ہیں… اور توفیق عطاکرنے والا تو اللہ تعالی ہی ہے۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب فتاویٰ دارالسلام جلد1