کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 918
(32) تصویریں لٹکانے کا حکم السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ گھروں وغیروہ میں تصویریں لٹکانے کا کیا حکم ہے؟  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! اس کا حکم یہ ہے کہ تصویریں اگر انسان یا دیگر ذی روح چیزوں کی ہوں تو حرام ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےحضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ‘‘جو تصویر دیکھو اسے مٹادو اورجو اونچی قبر دیکھو ،اسے برابر کردو۔’’(صیح مسلم)حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے گھر کے صحن کے سامنے ایک ایسا پردہ لٹکا دیا تھا جس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں،جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھاتو پھاڑ دیا ۔آپؐ کے چہرہ اقدس کا رنگ بدل گیا اورفرمایا‘‘عائشہ!ان تصویروں کے بنانے والوں کو روز قیامت عذاب ہوگا اورکہا جائے گا کہ ان میں جان ڈالوجن کو تم نے تخلیق کیا ہے ۔’’(صیح مسلم)ہاں البتہ تصویر اگر فرش پر ہو کہ اسے حقیر سمجھاجاتا ہویا تکیہ پر ہو کہ اس پر ٹیک لگائی جاتی ہوتواس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے کہ جبرائیل نے آپؐ کے پاس آنے  کا وعدہ کیا تھا تووہ حسب وعدہ آئے لیکن آپؐ کے گھر میں داخل نہ ہوئے تونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے   ان سے اس کا سبب پوچھا توانہوں نے بتایا کہ گھر میں تصویر ہے،پردے میں تصویریں بنی ہوئی ہیں نیز گھر میں کتا بھی ہے تو جبرائیل نے کہا  کہ تصویر کے سر کو کاٹ دیا جائے ،پردے کے بارے میں جبرائیل نے کہا کہ اسے پھاڑ کر اس کے دو ایسے تکیے بنالئے جائیں جنہیں پاوں تلے پائمال کیا جائے اورکتے کے بارے میں کہا کہ اسے گھر سے باہر نکال دیا جائے ،چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےاسی طرح کیا تو جبرائیل علیہ السلام کاشانہ نبوت میں داخل ہوئے۔’’اس حدیث کو امام نسائی اورکئی دیگرمحدثین نے مضبوط سند کے ساتھ روایت کیا ہے اورحدیث میں ہے کہ کتے کا یہ بچہ حضرت حسن یا حضرت حسین رضی اللہ عنہم کا تھاجو گھر کے سامان وغیرہ کے نیچے تھا۔ صیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا‘‘فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر یا کتا ہو۔’’(متفق علیہ)حضرت جبرائیل علیہ السلام کے اس واقعہ سے معلوم ہوتا  ہے کہ تصویر اگر فرش یا بچھونے وغیرہ میں ہو تو یہ دخول ملائکہ سے رکاوٹ نہیں بنتی ،اسی طرح حدیث صیح سے ثابت ہے کہ مذکورہ پردے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے تکیہ بنالیا تھا جس کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگایا کرتے تھے۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب مقالات و فتاویٰ ص179