کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 876
(453) تصویریں لٹکانا السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ تصویریں لٹکانے کے بارے میں کیا حکم ہے ؟  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! دیواروں پر یا دفتروں  وغیرہ  میں لٹکانا مطلقاً جائز  نہیں ہے بلکہ واجب ہے کہ  انہیں مٹادیا جائے  کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ  سے فرمایا تھا:" ہر تصویر کو مٹادو۔" تصویریں لٹکانے  کا نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ  انسان ان کی تعظیم کرنے اور  اللہ تعالیٰ کے سوا ان کی بھی عبادت  کرنے لگتا ہے  جبکہ  یہ تصویریں بادشاہوں 'لیڈروں  اور بڑے  لوگوں کی ہوں اور اگر  یہ تصویریں   عورتوں  اور بچوں کی ہوں  تو پھر بھی  یہ فتنہ سے خالی نہیں ہیں۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب فتاویٰ اسلامیہ ج4ص346