کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 870
(239)کپڑا دراز رکھنے کا حکم، خواہ یہ از راہ تکبر ہو یا عادت کے طور پر ہو؟ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ کپڑا  دراز رکھنے کا کیا حکم ہے؟ خواہ یہ تکبر کے طور پر یا بغیر تکبر ہو اور جب انسان اس کام پر مجبور ہو تو پھر کیا حکم ہے۔ خواہ اس کے گھر والے اسے مجبور کرتے ہوں۔ اگر وہ چھوٹا ہو یا عادت ہی ایسی رائج ہوگئی ہو؟ (محمد۔ ع۔ا ۔ القصیم)  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! مردوں کے لیے ایسا کرنا حرام ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ((مَا اسفلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ مِنَ الْاِزار فھُوَ فِی النَّار)) ’’تہبند کا جتنا حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو وہ آگ میں ہوگا۔‘‘ اس حدیث کو بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کیا اور مسلم نے اپنی صحیح میں ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ثَلَاثَة لَا یُکَلِّمُہمُ اللہ وَلَا یَنْظُرُ إِلَیْہم وَلَا یُزَکِّیْہمْ وَلَہمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ، الْمُسْبِلُ اِزَارَہٗ، والمنَّانُ ما اعطی، والمنفق سلعة بالحلف الکاذب)) ’’قیامت کے دن تین شخصوں سے نہ اللہ کلام کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور انہیں دردناک عذاب ہوگا۔ ایک اپنی تہبند لٹکانے والا، دوسرا دے کر احسان جتلانے والا اور تیسرا جھوٹی قسم کھا کر اپنا مال بیچنے والا۔‘‘ یہ دونوں حدیثیں اور دوسری حدیثیں جو ان معنوں میں آئی ہیں، ہر طرح کے کپڑے لٹکانے والے کو عام ہیں۔ خواہ وہ تکبر سے لٹکائے یا کسی اور وجہ سے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی الاطلاق فرمایا ہے اسے مقید نہیں کیا اور جب کپڑا لٹکانا ازراہ تکبر ہو تو یہ کبیرہ گناہ بن جاتا ہے جس کی سخت وعید آئی ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ جَرَّ ثَوبَہ خُیلَاء لَمْ یَنْظُرِ اللہ الیہ یومَ القیامة)) ’’جس نے تکبر سے اپنا کپڑا گھسیٹا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھے گا بھی نہیں۔‘‘ اور یہ خیال کرنا کہ کپڑا لٹکانا صرف اس صورت میں منع ہے کہ ازراہ تکبر ہو، درست نہیں۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ حدیثوں میں اس چیز کی کوئی قید نہیں لگائی۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور حدیث میں بھی قید نہیں لگائی اور وہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی صحابی سے فرمایا: ((ایَّاکَ والاسْبَالَ فانَّہ مِنَ الْمَخِیْلَة)) ’’لٹکانے سے بچو کیونکہ یہ تکبر کی وجہ سے ہوتا ہے۔‘‘ گویا آپ نے کسی طرح بھی، لٹکانے کی وجہ تکبر ہی قرار دی ہے۔ کیونکہ بسا اوقات معاملہ ایسا ہوتا ہے اور جو شخص تکبر کی وجہ سے نہ لٹکائے تو بھی یہ تکبر کا وسیلہ ہے اور وسیلہ کا حکم غایت کا حکم ہوتا ہے۔ یہ کام اس لیے بھی حرام ہے کہ اس میں اسراف ہے اور اپنے لباس کی نجاست اور میل کچیل پر پیش کیا جاتا ہے۔ اسی لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ جب وہ کسی نوجوان کو دیکھتے کہ اس کا کپڑا زمین کو چھو رہا ہے تو اسے فرماتے: ’’اپنا کپڑا اونچا کر لے۔ یہ تیرے پروردگار کے لیے تقویٰ اور تیرے کپڑے کے لیے صفائی والا کام ہے۔‘‘ رہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے ارشاد۔ جب انہوں نے کہا: ’’اے اللہ کے رسول! میرا تہبند ڈھلک جاتا ہے الا یہ کہ میں اسے باندھتا رہوں۔‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ’’آپ ان سے نہیں جو تکبر سے ایسا کرتے ہیں۔‘‘ اس سے آپ کی مراد یہ تھی کہ جب تہبند ڈھیلا ہو جائے تو وہ شخص باندھ لے حتیٰ کہ وہ اونچا ہو جائے، وہ ان میں شمار نہ ہوگا جو تکبر سے اپنا تہبند گھسیٹتے ہیں۔ کیونکہ اس نے اسے لٹکایا نہیں اور جس شخص کا کپڑا ڈھیلا ہو جاتا ہو پھر وہ اسے اونچا کرتا اور باندھتا رہے، بلاشبہ وہ معذور ہے۔ مگر جو شخص دانستہ اسے لٹکائے خواہ یہ چغہ (عبایا) ہو یا پاجامہ یا تہبند یا قمیص ہو، وہ اس وعید میں داخل ہے اور وہ اپنا لباس لٹکانے میں معذور نہیں ہے۔ کیونکہ جو احادیث صحیحہ کپڑا لٹکانے کی ممانعت میں آئی ہیں، اپنے مفہوم، معنی اور مقاصد کے اعتبار سے عام ہیں۔ لہٰذا ہر مسلم پر واجب ہے کہ وہ کپڑا لٹکانے سے بچے اور اس معاملہ میں اپنے پروردگار سے ڈرے اور ان صحیح احادیث پر عمل کرتے ہوئے اپنا لباس ٹخنے سے نیچے نہ لٹکائے اور اللہ کے غضب اور اس کے عذاب سے ڈرے… اور توفیق دینے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب فتاویٰ دارالسلام ج 1 محدث فتویٰ