کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 853
(167) عمامہ کا رنگ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ کیا عمامہ کا سبز رنگ بھی ہے یا سیاہ رنگ؟ ایک مولوی صاحب نے کہا کہ پگڑی سبز بھی ہے اور سفید بھی اور سرخ بھی ، لہٰذا آپ صحیح احادیث کی رو سے وضاحت فرمائیں۔   الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! نبی اکرم  ﷺنے سفید لباس کو پسند فرمایا ہے اور اس کی ترغیب بھی دی ہے جیسا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ((قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: «عَلَیْکُمْ بِالْبَیَاضِ مِنَ الثِّیَابِ فَلْیَلْبَسْہَا أَحْیَاؤُکُمْ، وَکَفِّنُوا فِیہَا مَوْتَاکُمْ، فَإِنَّہَا مِنْ خَیْرِ ثِیَابِکُمْ.))  ''تم سفید لباس لازم پکڑو اس کو تمہارے زندہ لوگ پہنیں اور اس میں اپنے مردوں کو کفن دو یقیناً یہ تمہارے بہترین کپڑوں میں سے ہے۔''(ابو داؤد۴۰۶۱، ابنِ ماجہ۵۶۶، ترمذی۵۴) (( عن سمرة بن جندب قال  قال  رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وسلم  البسوا  البیاض فإنہا  أطہر و أطیب و کفنوا فیہا موتاکم.)) ''سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ   ﷺ  نے فرمایا ، سفید لباس پہنو یقینا ًیہ بہت زیادہ و عمدہ ہے اور اس میں اپنے مردوں کو کفن دو۔''(ترمذی۲۳۸۱۱، ابنِ ماجہ۳۵۸۷، نسائی ، طیالسی۱۸۰۰)  مذکورہ احادیث سے معلوم ہوا کہ سفید لباس نہایت عمدہ اور پسندیدہ ہے۔ اللہ کے رسول   ﷺ  نے اس کی ترغیب دلائی اور آپ نے ایک صحابی کو سفید عمامہ بندھوایا (صحیح صغیر) اور عمامہ جو اللہ کے رسول   ﷺ  باندھا کرتے تھے اس کا رنگ حدیث میں سیاہ مذکور ہوا ہے جیسا کہ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: (( دخل  النبی  صلی اللہ علیہ وسلم  یوم الفتح  و علیہ  عمامة  سودآء.))    ''نبی   ﷺ فتح مکہ والے دن مکہ میں داخل ہوئے تو آپ سیاہ پگڑی تھی۔ ''  (مسلم، ابو داؤد۴۷۶، ابنِ ماجہ۸۵۸۵، ترمذی۱۷۳۵، احمد۳۶۳/۳۔۳۸۷، دارمی۸۴/۲) (( عن عمرو  بن حریث ان النبی  صلی اللہ علیہ وسلم  خطب الناس  وعلیہ عمامة  سودآء.))  ''عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ، نبی   ﷺ  نے خطبہ دیا اور آپ   ﷺ  کی سر پر سیاہ پگڑی تھی۔'' ابو داؤد میں اس طرح ہے: (( رأیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم  علی المنبر  وعلیہ عمامة  سودآء قد أرخی طرفہا بین کتفیہ.))  ''عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی   ﷺ  کو منبر پر دیکھا ، آپ   ﷺ  نے خطبہ دیا اور آپ   ﷺ  کے سر پر سیاہ پگڑی تھی ۔ آپ   ﷺ  نے اس کے شملہ کو اپنے کندھوں کے درمیان لٹکایا ہوا تھا۔''      (مسلم۱۳۵۹، ابنِ ماجہ۳۵۸۴، ابو داؤد۴۰۷۷، شمائل ترمذی۹۳) (( عن ابن عمر قال کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم  إذا اعتم سدل  عمامتہ  یبن قال نافع و کان  ابن عمر یفعل ذلک  قال عبید اللہ رأیت  القاسم بن محمد  و سالما یفعلان ذلک.))  ''ابنِ عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم   ﷺ  جب پگڑی باندھتے تو اس کے شملہ کو اپنے کندھوں کے درمیان لٹکا دیتے۔ نافع نے کہا ابنِ عمر اسی طرح کرتے تھے۔ عبیداللہ نے کہا میں نے قاسم بن محمد بن ابی بکر اور سالم بن عبداللہ بن عمر کو اسی طرح کرتے دیکھا۔''  (شمائل ترمذی ،۹۴، جامع ترمذی۱۷۳۶) مذکورة الصدر احادیث سے معلوم ہوا کہ سیاہ عمامہ باندھنا سنت نبوی   ﷺ ہے۔ رہا سبز عمامہ تو اس کا کسی صحیح احادیث میں ذکر نہیں۔ اگر کسی بھائی کے علم میں سبز پگڑی کی صحیح حدیث ہو تو وہ ہمیں لکھ کر بھیج دے۔ اسی طرح سرخ رنگ کا ذکر بھی ہمیں کسی صحیح حدیث سے نہیں ملا۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب آپ کے مسائل اور ان کا حل ج 1