کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 850
(347) کیا داڑھی کو سیاہ و سرخ مہندی ملا کر لگا سکتے ہیں السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ کیا داڑھی کو کالی و سرخ مہندی ملا کر لگانے کی اجازت ہے ؟ ( سائل قاری محمد رمضان ، جامع مسجد اہلحدیث عثمان بن عفان اہلحدیث ، ڈیرہ غازی خان) الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! اگر سیاہ خضاب یا سیاہ مہندی پر سرخ مہندی کا رنگ غالب ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں ۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن حضرت ابوقحافہ رضی اللہ عنہ ( ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد بزرگوار ) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت عالیہ میں پیش کیا گیا جب کہ ان کا سر اور داڑھی سفید پھولدار بوٹی کی طرح سفید تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((غیروا ہذا بشیء واجتنبوا السواد)) (2) سنن  ابی داؤد باب فی الخضاب : ج2ص 226) ’’اس سفیدی کو کسی دوسرے رنگ میں بدل دو اور سیاہ خضاب سے اجتناب کرو ۔ رہا حضرت  حسین رضی اللہ عنہ کا عمل تو وہ کوئی شرعی دلیل نہیں وہ ان کا ذاتی عمل ہے جیسا کہ ائمہ نے تصریح فرمائی ہے ۔ حضرت امام شافعی رحمہ اللہ فرمایا : لَا حجَّة فِی قَول أحددون رَسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَإِن کَثُرُوا، وَلَا فِی قِیَاس وَلَا فِی شَیْء، وَمَا ثمَّ إِلَّا طَاعَة اللہ وَرَسُولہ بِالتَّسْلِیمِ. (3) (حجة اللہ البالغہ ج1 ص 157) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے سامنے کسی کا قول و عمل شرعاً حجت نہیں ہو سکتا اگرچہ وہ کتنے ہی کیوں نہ ہو نہ قیاس میں نہ کسی اور باب دین میں اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو تسلیم کئے بغیر کوئی چارہ نہیں ۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب فتاویٰ محمدیہ ج1ص859