کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 765
حضرت رسول اللہ ﷺ کا داڑھی رکھنا کہاں تک ثابت ہے؟ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ حضرت رسول اللہ ﷺ کا داڑھی رکھنا کہاں تک ثابت ہے۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ داڑھی بالکل کٹانی یعنی قینچی لگانی بھی منع ہے۔  بعض فرماتے ہیں کہ چھوٹے بڑے سب ایک برابر کرانے کی کوئی مخالفت نہیں۔ براہ مہربانی صحیح حدیث درج فرمائیں۔  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! اس مسئلہ کے متعلق بار ہا مذاکرات علمیہ لکھے گئے ہیں۔ اس بارے میں دو حدیثیں مختلف آئی ہیں۔ ایک میں تو فرمایا داڑھی بڑھاؤ۔ دوسری میں حضرت کا اپنا فعل ہے۔ کہ داڑھی کے ارد گرد سے بڑھے ہوئے بال کٹالیا کرتے تھے۔ اس لئے تطبیق یہ  ہے کہ ساری رکھنی مستحب ہے۔  اور ایک مشت کے برابر رکھ کر باقی کٹا لینا جائز ہے۔ (22 جمادی الاول 45 ہجری) تشریح عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال خالفوا المشرکین ووفروا النحی وانہکوا الشوارب وکان ابن عمر اذا حج اواعتمر قبض علی  لحیة  فما فضل اخذہ انتہی موطا امام مالک رحمۃ اللہ علیہ  میں ہے کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  احرام کی حالت میں قصر یا اصلاح شعر لحیۃ وغیرہ نہ کرتے تھے۔ الا یوم النحر ورنہ ویسے بعد ضرورت یہ حصر نہ تھا۔ مالک عن نافع ان عبداللہ بن عمر کان اذا افطر من رمضان وہو یرید الحج لم یاخذ من راسہ ولحیتہ شیا حتی یحج انتہی ص 154 ص 155 پس ثابت ہو کہ یہ عدم قصر وحصر صرف شوال وذی قعدہ و9یوم ذی الحجہ کا بسسبب احرام ہوتا تھا نہ کہ  عام طور پر سال بھر تک پس حسب ضرورت سال بھر تک عدم قصر نہ تھا۔ اور چونکہ اکثر لوگ بعد رمضان حج کےلئے محرم ہوجاتے ہیں۔ اور وہ احرام میں ریش بروت وغیرہ کی اصلاح جائز نہیں۔ الایوم النحر اس لئے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی حدیث میں حج وعمرہ کا ذکر ہے۔ ورنہ ویسے حسب ضرورت شرعی اصلاح کے ترک کرنے کی کوئی وجہ نہیں اور نیل الاوطار میں ہے۔ قال القاضی عیاض یکرہ حلق اللحیة وقصہا وتحریفہا واما الاخذ من طولہا وعرضہا فی حسن وتکرہ الشہرة فی تعظیمہا کما تکرہ قصہا وحلقہا وقد اختلف السلف فی ذلک فمنہم من لم یجد بل قال لایترکہا الی حد الشہرة ویاخذ منہا وکرہ ما لک حلولہا جدا ومنہم من حد بما زاد علیالقبضة فیزال ومنہم من کرہ الاخذ منہا الا فی حج اوعتمرہ انتہی ج1 ص97) حاصل یہ کہ سلف صالح جمہور صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین  وتابعین وائمہ محدثین کے نزدیک ایک مشت تک داڑھی کوبڑھنے دیناحلق وقصر وغیرہ سے اس کا تعارض نہ کرنا واجب ہے۔ کہ اس میں اتباع سنت اور مشرکوں کی مخالفت ہے۔ اور ایک مشت سے زائد کی اصلاح جائز ہے۔  اور بافراط شعر لحیہ وتشوہ وجہ وصورت وتشبہ بہ بعض اقوام مشرکین ہندو سادھو وسکھ وغیرہ جن کا شعار باوجود افراط شعر لحیۃ عدم اخذ ہے۔ قبضہ سے زائد کی اصلاح واجب ہے ورنہ  مشرکوں کی موافقت سے خلاف سنت بلکہ بدعت ثابت ہوگی۔ جس کا سلف صالحین میں سے کوئی بھی قائل نہیں۔  اور یہ بھی واضح ہوکہ حدیث نبوی ﷺ انہکوا الشوارب واعفوا الحی وخالفوالمشرکین جب تک حدیث کے تینوں جملوں  پر پوری طرح عمل نہ کیاجائے گا۔ اتباع سنت اور مشرکین کی مخالفت نہ ہوگی۔ مثلا اگر کوئی مونچھوں کو حذف کردے۔ اور اعفاء لحیہ نہ کرے۔ یاکرے۔  مگر باوجود افراط شعر لحیہ وتشوہ وجہ وتشبہ بہ بعض مشرکین مذکورہ بالا اس کی اصلاح نہ کرے تو حدیث کے جملہ خالفو ا المشرکین پرعمل نہ ہوگا۔ اس لئے کہ خالفوا المشرکین کا الف لام استغراقی ہے۔ کہ مشرکوں کے ہرنوع کی ہرنوع وہر حیثیت سے مخالفت کا ملہ واجب ہے۔ اور وہ مخالفت قطع شوارب سے ہو یا اعفاء لحیہ سے ہو یا باوجود  افراط شعر لحیہ عدم اصلاح شعر لحیہ سے ہو اور اگر ان شقوق میں سے کوئی شق باقی یا ناقص رہ گئی تو مخالفت کاملہ نہ ہوگی۔ لہذا اتباع سنت بھی نہ ہوگا۔ ورنہ داڑھی مونچھیں منڈوانے والے پر کوئی اعتراض نہ ہوگا۔  کہ انھکوا الشوارب پر عمل ہوکر اتباع سنت ومخالفت مشرکوں کی ہوگئی۔ ولا قائل بہ احد من علماء الاسلام  پس افراط شعر کی صورت  میں قبضہ سے زائد کی اصلاح واجب ہے۔ کما تقدم ہذا ہوالصدق اوالصوب واللہ یہدی من یشاء الیٰ صراط مستقیم الخ (ابو سعید شرف الدین دہلوی ۔ نور توحید لکھنو 10 جنوری 1952ء) فتاویٰ  ثنائیہ جلد 2 ص 136