کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 749
برہنہ سر نماز پڑھنے کے جواز میں کوئی حدیث موجود ہے؟ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ  اہل حدیث کے کسی پرچے میں میں نے دیکھاہے۔ کہ برہنہ سر نماز پڑھنے کے جواز میں کوئی حدیث ہے۔ براہ کرم اس حدیث کو نقل فرمائیں کے کس کتاب میں ہے اس کا حوالہ بھی لکھ دیاجائے تو منت ہے۔ ؟  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! قال ابو ہریرة سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وسلم یقول من صلی فی ثوب احد فلیخالف بین طرفیہ بخاری میں آپ ﷺ نے فرمایا جو کوئی ایک کپڑے میں نماز پڑھے۔ ستر عورت ڈھانپ کر باقی ادھر  ادھر کاندھوں پر ڈال لے۔ اس حکم میں سر ڈھانپنے کا ذکر نہیں لہذا ثابت ہوا کے سر ننگے نماز جائز ہے۔ واللہ علم  (11 صفر 48 ہجری) تشریح ستر سر مرد کو واجب نہ سہی۔ مگر بحکم ۔ خُذُوا زِینَتَکُمْ عِندَ کُلِّ مَسْجِدٍ اورررسول اللہ ﷺ کا سرپر امامہ رکھنے سے  عمامہ سنت ہے۔ اور ہمیشہ ننگے سر کو نماز کا شعار بنانا بھی ایجاد بندہ ہے۔ اور خلاف سنت گاہے چنیں کا حکم اور ہے  اورشعار کا اور   پس اول جائز ثانی ایجاد (ابو سعید شرف الدین دہلوی)   فتاویٰ  ثنائیہ جلد 01 ص 592