کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 702
’’نعل، صاع ، القبال ، شسع‘‘ کے متعلق السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ اس سے پہلے آپ کو خط لکھا تھا ’’نعل، صاع ، القبال ، شسع‘‘ کے متعلق آپ نے جواب نہیں دیا واللہ ہمارا مقصد آپ کی دل آزاری یا آپ کا وقت ضائع کرنا نہیں اور نہ ہی میں دماغی عیاشی کے لیے آپ سے سوال پوچھتا ہوں ۔ میرا مقصد صرف اور صرف تحقیق ہے تاکہ اللہ کی رضا کے لیے ان مسائل پر عمل کیا جا سکے اگر ہم سے کوئی گستاخی ہو گئی ہے تو معافی چاہتے ہیں امید ہے کہ آپ ہمارے مسائل کا حل فرمائیں گے۔ ان شاء اللہ ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اجر عظیم دیں گے ۔ باقی مسئلہ : نعل ، صاع ، القبال ، شسع کا جواب دیں یا نہ دیں آپ کی مرضی ہے ۔ محمد افضل  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! جناب کا مکتوب موصول ہوا یاد فرمائی کا شکریہ ۔ ناراضگی والی کوئی بات نہیں نعل صاع قبال اور شسع والی باتوں کا جواب صرف اس لیے نہیں دیا گیا کہ جن سوالات کا بندہ کی طرف سے آپ کو جواب مل گیا آپ نے انہی کو دوہرا دیا اور ان کے جوابات میں تدبر نہ فرمایا پھر قبال اور شسع کے معانی کی تحقیق کے سلسلہ میں آپ کوئی اردو عربی لغت لے کر بیٹھ گئے جبکہ اصل مستند عربی کتب لغت مثلاً قاموس ، لسان العرب اور تاج العروس وغیرہ میں ان الفاظ کے وہ معانی نہیں جو آپ کو ئی اردو عربی لغت دیکھ کر سمجھے بیٹھے ہیں ۔                          ۸صفر۱۴۰۶ہـ   قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل جلد 01 ص 510