کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 622
(579) جو شخص لہسن پیاز یاگند نا کھائے السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ: «من اکل بصلا او ثومااو کراثا فلا یقربن مساجدنا ثلاثة ایام فان الملائکة تتاذی مما یتاذی منہ بنو آدم»(صحیح مسلم) ''جو شخص لہسن پیاز یا گندنا کھائے تو وہ تین دن تک ہماری مسجدوں میں نہ آئے کیونکہ فرشتے بھی اس چیز سے تکلیف محسوس کرتے ہیں۔جس سے انسان کو تکلیف محسوس ہوتی ہے۔''(او کمال قال علیہ افضل الصلوۃ والسلام تو کیا اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ ان چیزوں میں سے کسی ایک کو کھانے کے بعد مسجد میں نماز جائز نہیں حتیٰ کہ یہ مذکورہ مدت گزر جائے یا اس کے معنی یہ ہیں کہ جس کے لئے نماز باجماعت لازم ہو اس کے لئے ان چیزوں کا کھانا جائز نہیں ہے؟  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! اس حدیث اور اس کے ہم معنی دیگر صحیح احادیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مسلمان کےلئے اس وقت تک نماز باجماعت کے لئے مسجد میں حاضری مکروہ ہے۔ جب تک اس سے ایسی بدبوآتی رہے جس سے اس کے گردوپیش کے نمازیوں کو تکلیف ہو خواہ یہ بو لہسن پیاز اور گندنا کھانے کی وجہ سے ہویا مکروہ بدبو والی دیگر اشیاء مثلا سگریٹ نوشی وغیرہ کی وجہ سے ہو حتیٰ کہ اس کی بو زائل ہوجائے اور جہاں تک تین دن کی حد بندی کا مسئلہ ہے تو مجھے اس کے بارے میں کوئی اصل معلوم نہیں۔(شیخ ابن باز رحمۃ اللہ علیہ ) ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب فتاویٰ اسلامیہ :جلد1 صفحہ نمبر 463