کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 496
گانے کا کیا حکم ہے، کیا وہ حرام ہے یا نہیں ؟ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ گانے کاکیا حکم ہے، کیا وہ حرام ہے یا نہیں ۔ جبکہ میں اسے صرف تسلی کے ارادہ سے سنوں ۔ نیز سارنگی پر گانے اور پرانے گیت گانے کا کیا حکم ہے؟ کیا شادی کے موقع پر طبلہ پر تھاپ حرام ہے۔ جبکہ میں نے سنا ہے کہ وہ جائز ہے لیکن حقیقت میں نہیں جانتی؟ (ایک مسلمان عورت)  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! گانے کو دھیان سے سننا حرام اور منکر ہے۔ جو دلوں کے مرض اور ان کی سختی کا سبب بنتا ہے اور اللہ کے ذکر اور نماز سے روکتا ہے اور اکثر اہل علم نے اللہ تعالیٰ کے اس قول: {وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَہْوَ الْحَدِیْثِ} (لقمان: ۶) ’’اور لوگوں میں کوئی ایسا ہے جو بیہودہ باتیں خریدتا ہے۔‘‘ کی تفسیر غنا سے کی ہے اور جلیل القدر صحابی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قسم کھا کر کہا کرتے تھے کہ لہو الحدیث سے مراد گانا ہے اور جب گانے کے ساتھ کوئی گانے کا آلہ جیسے سارنگی، عود، کمان اور طبلہ وغیرہ بھی ہو تو اس کی حرمت سخت ہو جاتی ہے اور بعض علماء کہتے ہیں کہ جب گانے کے ساتھ کوئی آلہ بھی ہو تو وہ اجماعاً حرام ہے۔ لہٰذا اس سے بچنا واجب ہے اور یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درست طور پر ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَیَکُونَنَّ مِنْ اُمَّتی اقوامٌ یَسْتَحِلُّونَ: الحِرَ، والْحَریرَ، والْخَمْرَ، والمَعَازِفَ)) ’’میری امت سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور گانے بجانے کو حلال بنا لیں گے۔ اور حر کا معنی زنا اور معازف کا معنی گانے اور آلات موسیقی ہیں ۔‘‘ اور میں آپ کو اور دوسرے مردوں اور عورتوں سب کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ قرآن کی قراء ت اور اللہ عزوجل کا ذکر بکثرت کیا کریں ۔ جیسا کہ میں آپ کو اور دوسرے لوگوں کو یہ وصیت کرتا ہوں کہ آپ گانے اور موسیقی سننے کے بجائے قرآنی نشریات اور برنامج (پروگرام) نور سنا کریں ۔ کیونکہ ان دونوں میں بڑے بڑے فوائد ہیں ۔ رہی شادی تو اس میں عام گانا اور دف بجانا مشروع ہے۔ ایسا گانا جس میں کسی حرام چیز کی دعوت نہ ہو نہ اس میں کسی حرام چیز کی مدح ہو اور یہ رات کے وقت عورتوح کے لیے خاص ہے کہ نکاح کے اعلان اور نکاح اور زنا میں فرق ہو سکے۔ جیسا کہ ایسی ہی سنت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درست طور پر ثابت ہے۔ لیکن طبلہ بجانا شادی کے موقع پر جائز نہیں ۔ بلکہ خاص طور پر دف پر ہی اکتفا کرنا چاہیے۔ اور نکاح کے اعلان کے لیے لاؤڈ سپیکروں کا استعمال جائز نہیں اور مروجہ وہ گانے بھی جو لاؤڈ سپیکروں میں گائے جاتے ہیں ۔ کیونکہ ان سے عظیم فتنہ اور برے نتائج پیدا ہوتے ہیں اور مسلمانوں کو ایذا پہنچتی ہے۔ نیز اس کام میں طویل وقت صرف کرنا بھی جائز نہیں ۔ بلکہ تھوڑے وقت پر ہی اکتفا کرنا چاہیے جس میں نکاح کا اعلان ہو جائے۔ کیونکہ اس کام میں طویل وقت صرف کرنے سے نیند پوری نہیں ہوتی اور فجر کی نماز ضائع ہو جاتی ہے اور بات بڑے بڑے حرام کاموں اور منافقین کے اعمال سے ہے۔     فتاوی بن باز رحمہ اللہ جلداول -صفحہ 226