کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 464
ایسا کاروبار جس میں عورتوں کو ہاتھ لگانا پڑے شرعاً کیسا ہے؟ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ انجمن  اصلا ح  معا شر  ہ  کی طر ف  سے سوال  ہے کہ  ایسا  کا رو با ر  جس  میں غیر  محرم  عورتو ں  کو ہا تھ  لگا نا  پڑے شر عا ً  کیا حیثیت رکھتا ہے  جیسا کہ مر د  عورتو ں  کو چو ڑیا ں  پہنا تے  ہیں ؟  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! شر یعت اسلا میہ میں غیر محر م عورتو ں کو  دیکھنا  اور انہیں  ہا تھ  لگانا  حرا م  ہے البتہ  کسی مجبو ری  کے پیش نظر  ایسا کیا جا سکتا ہے  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   بھی اس سے اجتنا ب  کر تے تھے  چنا نچہ  سمع  وا طا عت  کی بیعت  لیتے وقت  آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  مر دو ں  سے مصافحہ  فر ما تے اور ان کا ہا تھ  پکڑ کر  ان سے عہد و پیما ن لیتے  لیکن عورتو ں  سے بیعت  لیتے  وقت  صرف احکا م دینے پر  اکتفا  کر تے ان سے مصافحہ  نہ فر ما تے  حضرت  عبد اللہ بن عمر و  رضی اللہ  تعالیٰ عنہ   بیا ن کر تے ہیں  کہ رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم   بیعت لیتے  وقت  عورتو ں  سے مصافحہ  نہ  کر تے تھے ۔(مسند امام حمد : 2/213) حضرت امیمہ  بنت رقیقہ رضی اللہ  تعالیٰ عنہا  نے ایک مر تبہ  عر ض  کیا یا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ  ہم  سے مصافحہ  نہیں فر ما ئیں  گے ؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے جو اب دیا :"  کہ میں عورتو ں  سے ہا تھ  نہیں ملا تا  ہو ں ۔(مسند احمد :6/357) اسی طرح حضرت  اسما ء  بنت  یز ید  رضی اللہ  تعالیٰ عنہا   نے در خو است  کی کہ  آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   اپنے  دست مبارک  سے کپڑا  نہیں اٹھا  تے ( تا کہ  ہم  بیعت  کریں ) تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فر ما یا :" کہ میں عورتو ں سے مصا فحہ نہیں کرتا ۔(مسند امام احمد :6/454) ان دلا ئل  کے پیش نظر  ایسا  کا رو با ر  شر عاً حرا م  ہے جس  میں غیر محر م  عورتو ں  کو ہا تھ  لگا نا  پڑے  اگر عورتیں  ہی ایک  دوسرے  کو  چو ڑیا ں پہنائیں  تو ایسا  کا رو با ر جا ئز ہے  لیکن مردو ں  کے لیے  ایسا کا م کر نے  کی قطعاً گنجا ئش نہیں  ہے لہذا  ضروری  ہے کہ  ایسا  کا رو با ر  کر نے  کے لیے  عورتو ں  کا بندو بست  کیا جا ئے  تا کہ  مر دو ں  کے غیر  محر م  عورتو ں  کو ہاتھ  لگا نے  سے شر یعت  کا ایک  اہم  ضا بطہ  مجرو ح  نہ ہو ۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب فتاویٰ اصحاب الحدیث ج1ص424