کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 426
میری بیوی اپنے واجبات تواداکرتی ہے لیکن۔۔۔۔۔۔ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ میں شادی شدہ ہوں اورمیری بیوی کے بطن سے میرے چاربچےبھی ہیں،میری بیوی اپنے چچا زادبھائیوں سے پردہ نہیں کرتی ،میں نے اسے پردے کا حکم دیا ہے لیکن اس نے انکار کردیا ہے ،میں نے اپنے سسرال والوں سے بھی یہ کہاکہ وہ اپنی بیٹی سے کہیں کہ وہ پردہ کرے لیکن انہوں نے میری اس بات کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے،میں نے محسوس کیا ہے کہ یہی لو گ اسے اپنے چچاکے بیٹوں سے پردہ کرنے سے روکتے ہیں،میں نے مختلف طریقوں سے انہیں سمجھانے کی کوشش کی ہے لیکن بے سود اوربالآخر انہوں نے مجھ سے یہ مطالبہ کردیا ہے کہ میں بھی اس بات کو تسلیم کرلوں یا پھراسے طلاق دے دوں میری بیوی اپنے تمام گھریلوواجبات تواداکررہی ہے ،نمازبھی پڑھتی ہے مگراپنے گھروالوں کی حکم عدولی نہیں کرسکتی ،رہنمائی فرمائیں کہ ان حالات میں کیا کروں ؟جزاکم اللہ خیرا!  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! آپ کی بیوی پر یہ واجب ہےکہ وہ اللہ تعالی کی اطاعت کےپیش نظر اپنے چچاکے بیٹوں اوردیگر تمام اجنبی مردوں سے پردہ کرے،ارشادباری تعالی ہے: ﴿وَإِذَا سَأَلْتُمُوہُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوہُنَّ مِن وَرَ‌اءِ حِجَابٍ ۚ ذَٰلِکُمْ أَطْہَرُ‌ لِقُلُوبِکُمْ وَقُلُوبِہِنَّ﴾ (الاحزاب۵۳/۳۳) ‘‘اورجب پیغمبروں کی بیویوں سےتم کوئی سامان مانگوتوپردےکےپیچھےسےمانگو،یہ تمہارےاوران کے (دونوں کے) دلوں کےلئےبہت پاکیزگی کی بات ہے۔’’ اس (یعنی آپ کی بیوی) کےلئے پردہ اس لئےبھی واجب ہے کہ یہ اسباب فتنہ سےمحفوظ رہے اورلوگ اس کی وجہ سے فتنہ میں مبتلا نہ ہوں۔آپ پر اوراس کے گھر والوں پر یہ واجب ہے کہ اسے سمجھائیں اوربے پردگی کے فتنہ سے ڈرائیں اوراگراس کوتاہی کے علاوہ یہ عورت پسندیدہ اخلاق وکردار کی مالک ہے تو اسے طلاق دینے میں جلدبازی سےکام نہ لو۔ان شاء اللہ اس کا ایمان مجبور کرے گا کہ یہ اپنے اللہ ،اپنے رسول ﷺاوراپنے شوہر کی اطاعت بجالائے،اللہ تعالی اسے رشدوبھلائی سے نوازے اوراس کواپنے نفس اورلوگوں کے شرسے محفوظ رکھے۔ مقالات وفتاویٰ ابن باز صفحہ 369