کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 338
فحش اخبارات و مجلات کی فروخت السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ ہماری کتابوں اور سٹیشنری کے سامان کی ایک دوکان ہے، علاوہ ازیں بعض اخبارات و جرائد بھی ہوتے ہیں، جن میں سے کچھ کے ٹائٹل پر یا اندرونی صفحات میں لڑکیوں کی رنگین تصویرین بھی شائع ہوتی ہیں جو خریداروں کی توجہ مبذول کرانے کی غرض سے شائع کی جاتی ہے، تو ایسے جرائد و مجلات کی وجہ سے بعض لوگوں نے ہم پر تنقید  بھی کی ہے اور کہا ہے کہ ان کا بیچنا حرام ہے تو ہم اپنے عظیم المرتبت شیخ سے امید رکھتے ہیں کہ وہ اس مسئلہ میں فتویٰ سے نوازیں گے، جزاکم اللہ خیرا الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! آپ کے لیے یا کسی اور کے لیے بھی ایسے جرائد و مجلات کا بیچنا جائز نہیں ہے جو عورتوں کی تصویروں یا خلاف شریعت مقالات پر مشتمل ہوں کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَتَعاوَنوا عَلَی البِرِّ‌ وَالتَّقویٰ ۖ وَلا تَعاوَنوا عَلَی الإِثمِ وَالعُدو‌ٰنِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّہَ ۖ إِنَّ اللَّہَ شَدیدُ العِقابِ ﴿٢﴾... سورة المائدة "اور نیکی اور پرہیز گاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو، کچھ شک نہیں کہ اللہ کا عذاب سخت ہے۔" ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب محدث فتوی فتوی کمیٹی