کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 334
آدمی زنا کرے تو کیا اس کی بیوی اس پر حرام ہو جاتی ہے؟ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ جب ایک شخص زنا کرے اور وہ شادی شدہ ہو تو کیا اس کی بیوی اس پر حرام ہو جاتی ہے…؟ (ساری۔ غ۔ القصیم) الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! ان میں سے کوئی بھی ایک دوسرے پر حرام نہیں ہوتا اور ان سب کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ لازمی ہے اور توبہ سچی ہو پھر اس کے بعد ایمان صادق اور نیک اعمال کیے جائیں ۔ سچی توبہ صرف اس صورت میں ہوگی کہ توبہ کرنے والا وہ گناہ مطلقاً چھوڑ دے۔ گزشتہ فعل پر نادم ہو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے، اسے بزرگ سمجھتے ہوئے، اس کے ثواب کی امید رکھتے ہوئے اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے آئندہ وہ کام کبھی نہ کرنے کا پختہ عزم کرے… ارشاد باری تعالیٰ ہے: {وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اہْتَدٰیo} (طٰہٰ: ۸۲) ’’اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ کرو۔‘‘ نیز فرمایا: {وَتُوْبُوْا اِِلَی اللّٰہِ جَمِیْعًا اَیُّہَا الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَo} (النور: ۳۱) ’’اور اے ایمان والو! سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ اور زنا بہت بڑی حرام چیز اور بڑے بڑے گناہوں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو، ناحق قتل کرنے والوں کو اور زانیوں کو ان کے ان بڑے بڑے جرائم اور قبیح افعال کی وجہ سے قیامت کے دن دگنے عذاب اور جہنم میں ہمیشہ ذلیل وخوار ہو کر رہنے کی وعید سنائی ہے۔ جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے: {وَالَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِِلٰہًا آخَرَ وَلَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا یَزْنُوْنَ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًاo یُضَاعَفْ لَہٗ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَیَخْلُدْ فِیْہِ مُہَانًاo اِِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُوْلٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنَاتٍ وَّکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَحِیْمًاo} (الفرقان: ۶۸۔۷۰( ’’اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور جس جاندار کو اللہ نے مار ڈالنا حرام کیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے مگر جائز طریق سے۔ نہ ہی بدکاری کرتے ہیں اور جو ایسے کام کرے گا سخت گناہ میں مبتلا ہوگا۔ قیامت کے دن عذاب اس کے لیے دگنا کر دیا جائے گا اور وہ اس میں ہمیشہ ذلیل ہو کر رہے گا۔ مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھے کام کیے۔‘‘ لہٰذا ہر مسلمان مرد اور عورت پر واجب ہے کہ وہ اس عظیم بے حیائی اور اس کے وسائل سے ممکنہ حد تک بچے اور گزشتہ افعال پر سچی توبہ کرنے میں جلدی کرے۔ اور اللہ تعالیٰ سچی توبہ کرنے والوں کو معاف فرماتے اور انہیں بخش دیتے ہیں … اور توفیق دینے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔   فتاوی بن باز رحمہ اللہ جلداول -صفحہ 173