کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 291
(474) مجھے بار بار یہ ڈراؤنا خواب آتا ہے السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ مجھے بار بار یہ دڑاؤنا ور خوفناک خواب ستاتا ہے  کہ میرے منہ میں  آٹے  جیسی کوئی چیز  پڑجاتی ہے ۔ جس سے سانس لینے  اور بات کرنے میں بہت دشواری ہوتی ہے  اور جب  بھی میں اسے  ہاتھ کے  ساتھ منہ سے  باہر نکالتا ہوں  تو اس کے بجائے وہی   چیز اور منہ میں آجاتی ہے  اور میں گھبرا کر نیند سے بیدار  ہوجاتا ہوں  اور اس  خواب  سے بہت ڈرتا ہوں  'جس نے میری زندگی  کو تنگ  کر رکھا ہے  اور میں ہمیشہ  اس کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں  نہیں جانتا کہ اس کا سبب کیا ہے ؟ میں نماز  روزے کی پابندی  بھی  کرتا ہوں  اور حفظ بھی کر رکھا ہے 'میں ہمیشہ  اللہ تعالیٰ سے توبہ واستغفار  بھی کرتا رہتا ہوں  لیکن  دو سے  چار یا پانچ ماہ کے اندر  میں ایک بار یہ خواب ضرور آتا ہے  ۔اللہ تعالیٰ سے  دعاگو ہوں  کہ اس ڈڑاؤنے  خواب کی آپ سے کوئی تعبیر مل جائے  ۔اللہ تعالیٰ بھی اس وقت  تک  اپنے بندے کی مدد میں ہوتا ہے  جب تک بندہ  ا پنے  بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے؟ الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! یہ شیطانی خواب ہے ۔آپ کے  لیے  اور ہر مسلمان کے لیے حکم شریعت یہ ہے کہ  جب کوئی  شخص  براخواب دیکھے  تو اپنے  بائیں  جانب  تین بار تھوک دے  'شیطان  اور برے  خواب  کے شر  سے تین بار  اللہ کی پناہ  مانگے اور  پھر اپنی  دوسری کروٹ بدل کر لیٹ جائے 'اس طرح اسے  خواب سے کوئی نقصان نہیں ہوگا'اور اس  خواب کے بارے  میں کسی کو کچھ  نہ بتائے  کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : "اچھا خواب  اللہ تعالیٰ کی طرف  سے ہوتا ہے  اور برا شیطان کی طرف سے  اگر کوئی برا خواب دیکھے  تو وہ اپنی  بائیں جانب  تین بار تھوک  دے، شیطان  اور اس  خواب کے شر  سے تین  بار اللہ سے پناہ مانگے  اور پھر اپنی کروٹ بدل  لے 'اس سے یہ خواب اسے نقصان نہیں پہنچائے گا'نیز اس خواب کے بارے میں وہ کسی کو کچھ نہ بتائے ۔" یہ صحیح حدیث  مومنوں کے لیے باعث  راحت ہے  کہ جب بھی کوئی  مومن مرد  یا عورت  برا خواب دیکھے  تو وہ اس حدیث پر  عمل کرلے ۔یہ بحمدللہ ایک عظیم  اور بہت آسان  دواء ہے ۔ میرے بھائی! آپ اس پر عمل کریں اور  اس عظیم  نبوی  دواء کی وجہ سے  اپنے دل  کواطمینان وراحت  بخشیں ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب فتاویٰ اسلامیہ ج4ص361