کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 242
(142) کافروں کے ساتھ مصافحہ اور سلام کا حکم السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ کیا کافروں کے ساتھ مصافحہ کرنا اور انہیں پہلے سلام کرناجائز ہے؟ اگر وہ ہمیں سلام کہیں تو ہم ان کوکیسے جواب دیں؟ الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! کفار ومشرکین یہود ونصاریٰ بت پرست اور دہریے سب نجس (پلید) ہیں۔جس طرح کے اللہ تعالیٰ ٰ نے ہمیں بتایا ہے لہذا ان کا احترام اکرام مجالس میں عزت افزائی ان کے احترام میں کھڑا ہونا اور انہیں پہلے سلام کرنا یا صبح بخیر اور شب بخیر وغیرہ کہناجائز نہیں۔کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔ لا تبدوا الیہود ولا النصاریٰ بالسلام واذا لقیتموہم فی الطریق فاضطر وہم الی اضیقہ (صحح مسلم ح:٢١٦٧) ''یہود ونصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور جب انھیں راستہ میں ملو توانہیں تنگ راستہ کی طرف مجبور کردو۔'' اوراگر وہ ہمیں سلام کریں تو ہمیں جواب میں صرف یہ کہنا چاہیے''وعلیکم''(تم پر بھی) کافروں کے ساتھ مصافحہ معانقہ اور ان کے ہاتھوں کو بوسہ دینا جائز نہیں۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب فتاویٰ اسلامیہ ج1 ص38