کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 2021
(151)بنکوں کے ملازمین جو تنخواہ لیتے ہیں وہ حلال ہے یا حرام؟ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ عام بینکوں کے ملازمین اور بالخصوص عربی بینکوں کے ملازمین جو تنخواہ پاتے ہیں وہ حلال ہے یا حرام۔ جبکہ میں نے سنا ہے کہ یہ حرام ہے کیونکہ یہ بینک بعض معاملات میں سودی لین دین کرتے ہیں۔ میں امید رکھتا ہوں کہ آپ مجھے مستفید فرمائیں گے کیونکہ میں خود بھی کسی بینک میں کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں؟ (فوزی۔ح۔ا۔بیشہ)  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!  جو بینک سودی لین دین کرتے ہیں ان میں کام کرنا جائز نہیں۔ کیونکہ اس میں بینک والوں کے لیے گناہ اور سرکشی پر اعانت ہے، جبکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوَیٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَی الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ... ٢﴾...المائدة ’’اور نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں مدد نہ کیا کرو۔‘‘ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ آپ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، ایسی تحریر لکھنے والے اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت کی اور فرمایا: ’’ھم سوائ‘‘ (یہ سب گناہ میں برابر کے شریک ہیں) اس حدیث کو مسلم نے اپنی صحیح میں ذکرکیاہے۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب فتاویٰ دارالسلام ج 1 محدث فتویٰ