کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 2000
بنک معونۃ (امداد) کرتا ہے تو کیا یہ جائز ہے؟ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ کسی بینک نے طلبہ کے فنڈ کے اموال کی حفاظت کے عوض مسئولین (یعنی طلبہ) کو کچھ رقم پیش کی جسے بینک والے معونۃ (امداد) کہتے ہیں اور یہ رقم دراصل وہ زائد رقم ہے جو بینک اموال کی حفاظت کے علاوہ پیش کرتا ہے۔ بنک اس فنڈ کی رقم کو اپنے استعمال میں لاتا اور اس سے سرمایہ کاری کرتا ہے… کیا اس قسم کے بینک میں رقم جمع کرانا جائز ہے؟ (سائل(  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! یہ کام جائز نہیں ۔ کیونکہ یہ خالص سود ہے اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ بنک کے فائدہ کے عوض صندوق کے اموال میں تصرف کرتا ہے اور وہ فائدہ صندوق (رکھنے والے) کو دے دیتا ہے اور بنک نے اس معلوم فائدہ کا نام معونۃ (امداد) صرف فریب کاری، دھوکہ بازی اور سود کو جھپانے کے لیے رکھ لیا ہے۔ اور سود، سود ہی ہے خواہ لوگ اس کا کوئی بھی نام رکھ لیں … اور مدد تو اللہ تعالیٰ ہی سے درکار ہے۔     فتاوی بن باز رحمہ اللہ جلداول -صفحہ 152 محدث فتویٰ