کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 1991
مجبوری میں بینک یا کرنسی ایکسچینج میں کام کرنا السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ اس شخص کے متعلق کیا حکم ہے جسے اس کے حالات بنکوں میں یا مملکت میں موجود مقامی کرنس ایکسچینج میں کام کرنے پر مجبور کر دیں ۔ جیسے بینک الاہلی التجاری، بینک الریاض، بینک الجزیرہ، بینک العربی الوطنی، شرکہ الراجحی برائے مبادلہ وتجارت، مکتب الکعکی برائے تبادلہ، بینک السعودی الامریکی اور ان کے علاوہ دوسرے مقامی بینک ہیں ۔ یہ خیال رہے کہ یہ بینک اپنے گاہکوں کے لیے سیونگ اکاونٹ کھولتے ہیں اور کلرک جو تحریر کا کام کرتے ہیں ۔ جیسے حسابات لکھنے والا، پڑتال کرنے والا، نگرانی کرنے والا یا ان کے علاوہ ادارہ کے دوسرے کام کرنے والوں کو یہ بینک کئی مراعات دیتے ہیں جو ملازموں کو ان بینکوں کی طرف کھینچ لیتی ہیں ۔ جیسے بدل سکن (کرایہ رہائش) جو تقریباً بارہ ہزار ریال کے لگ بھگ ہوتا ہے یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے اور سال کے آخر میں دو ماہ کی تنخواہ۔ تو اس بارے میں کیا حکم ہے؟ (سعود۔م۔ا)  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! سودی بینکوں میں کام کرنا جائز نہیں ۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اس کو لکھنے والے اور دونوں گواہوں پر لعنت کی اور فرمایا کہ وہ سب (گناہ میں ) برابر ہیں ۔ اس حدیث کو امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا۔ اور اس لحاظ سے بھی ناجائز ہے کہ اس کام میں گناہ اور سرکشی پر تعاون ہے۔ جبکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: }وَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَ التَّقْوٰی وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِo} (المآئدۃ: ۲( ’’اور نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں نہ کیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے۔‘‘     فتاوی بن باز رحمہ اللہ جلداول -صفحہ 143 محدث فتویٰ