کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 1945
(435) کام کے بغیر اوور ٹائم کا معاوضہ وصول کرنا السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ میں ایک سرکاری ادارے میں کام کرتا ہوں  اور بعض اوقات  کام کے بغیر ہی ہمیں اوور ٹائم کا معاوضہ ادا کیاجاتاہے  حالانکہ ہم نے اوور ٹائم  کام کیا ہی نہیں  ہوتا(بلکہ) ہم تو (اس وقت )ادارے  میں موجود  ہی نہیں  ہوتے ۔اسے  ملازمین  کا معاوضہ قراردیاجاتا ہے اور ادارے  کے سربراہ کو بھی اس کا علم ہوتاہے اور وہ اس پر  کوئی اعتراض نہیں کرتا ۔آپ راہنمائی فرمائیں کیا ہمارے  لیے یہ مال لینا جائز ہے اور اگر جائز نہیں تو ماضی  میں میں نے  اس طرح جو مال وصول  کرلیا اور خرچ کرلیا ہے  اس کے ابرے میں کیا حکم ہے ؟ جزاکم اللہ خیراً  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! اگر امرواقع  اسی طرح ہے  جیسے آپ نے ذکر کیا ہے  تو  یہ ایک منکر اور ناجائز کام  بلکہ کیا خیانت  ہے'اس طرح سرکاری خزانے  سے آپ نے جو مال لیا ہے'واجب ہے کہ  وہ سرکاری خزانے میں واپس  لوٹائیں گے اور اگر اسے واپس  کرنا ممکن نہ ہو تو   مسلمان فقیروں اور فلاح وبہبود عامہ کے کاموں میں  خرچ کردیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور  صدق دل  سے توبہ کریں اور عزم  صادق کریں کہ آئندہ  اس طرح نہیں کریں گے  کیونکہ کسی بھی  مسلمان کے لیے  یہ جائز نہیں کہ وہ مسلمانوں  کے بیت المال  میں سے شرعی  طریقے  کے بغیر  کچھ  بھی وصول  کرے۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب فتاویٰ اسلامیہ ج4ص336 محدث فتویٰ