کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 191
(14) عہد نبوی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں کونسا فرقہ تھا ؟ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کونسا مسلک تھا اور لوگ کس مسلک کے پابند تھے؟ اس کی وضاحت کریں ۔ الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! دورِ حاضر میں امت مسلمہ میں جو کھینچا تانی اور تفرقہ بازی، ضد و ہٹ دھرمی اور شخصی نسبتیں اور تصوف کے مختلف سلسلے جسے قادری، سہروردی، نقشبندی، سیفی، مجدی و غیرہ دھڑے بندیاں اور فقہی مسالک جیسے حنفی، شافعی، مالکی ، حنبلی ، ظاہری و غیرہ موجود ہیں ۔ یہ سلسلے نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک اور عہدِ مسعود میں نہیں تھے۔ ان کا نام و نشان تک نہ تھا۔ آج امت میں دو طرح کی گروپ بندیاں ہیں۔ ایک وہ فرقے جن میں الحاد گھسا ہوا ہے۔ یہ زیادہ تر منکرین حدیث ہیں اور قرآنی آیات کی بھی اپنی من پسند تاویل کرتے ہیں ۔ دوسرے وہ جو اپنے اپنے امام کی تقلید پر قائم ہیں۔ حالانکہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم انسانیت کی رہنمائی کیلئے مبعوث کیے گئے تھے اور لوگوں کو صرف کتاب و سنت کی تعلیم دیتے تھے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿ہُوَ الَّذِی بَعَثَ فِی الْأُمِّیِّینَ رَسُولًا مِّنْہُمْ یَتْلُو عَلَیْہِمْ آیَاتِہِ وَیُزَکِّیہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَإِن کَانُوا مِن قَبْلُ لَفِی ضَلَالٍ مُّبِینٍ ﴿٢﴾…الجمعة ’’ اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس نے ان پڑھوں میں ایک رسول انہی میں سے مبعوث فرمایا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت سکھاتا ہے اور وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔" (الجمعۃ : ۲) اس طرح کی کئی ایک آیات قرآن مجید میں موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم انسانیت کےلیے راہبر اور امام اعظم بنا کر بھیجے گے تاکہ انسانیت کو ضلالت و گمراہی اور کفر و شرکت سے نکال کر نورانیت اور رشد و ہدایت کی طرف لائیں۔ بد عات اور رسوم و رواج سے ان کا تزکیہ کریں۔ اللہ تعالیٰ کے پیارے اور آخری رسول  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے نصاب تعلیم کتاب و سنت رکھا۔ حکمت سے مراد تقریباً تمام مفسرین نے سنت نبوی ( صلی اللہ علیہ وسلم( ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طریقہ کار اور منہج دو چیزیں ہی تھیں۔ وہ قرآن مجید کے ساتھ ساتھ حدیث نبوی کو مدرسہ عمل سمجھتے تھے۔ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو ترک کرنا گمراہی و ضلالات سمجھتے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے میں کوئی بھی شخص کسی دوسرے شخص کا مقلد نہیں تھا ۔ بلکہ وہ براہ راست کتاب و سنت پر عمل پیرا تھے اور تقلید سے منع کیا کرتے تھے۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : " أما االعالم فإن اہتدی فلا تقلدوہ دینکم" عالم اگر راہِ راست پر بھی ہو تو اس کی اپنی دین میں (ذاتی آراء کی ) تقلید نہ کرو ۔ ملاحظہ ہو ( جامع البیان العلم ۲/ ۱۱۱( سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ آپ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی ملت پر ہیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا نہیں ! " ولا علی ملة عثمان بن عفان  رضی اللہ عنہ  أنا علی ملة رسول اللہ علیہ وسلم " اور نہ ہی سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی ملت پر ہوں، میں تو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت پر ہوں۔ (حلیۃ الاولیاء۱۱/۳۲۹) معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مقلد نہ تھے بلکہ وہ سنت نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے لئے مشعل راہ سمجھتے تھے۔ اسی طرح تابعین، تبع تابعین، ائمہ مجتہدین اور محدثین تقیلد سے منع کیا کرتے تھے اور کتاب و سنت کی پیروی کا حکم دیا کرتے تھے۔ تفصیل کے لئے ملا حظہ ہو فتاویٰ ابن تیمیہ۲۰ /۱۰‘ ۲۱۱ وغیرہ ۔ شا ہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ کی تحقیق کے مطابق چوتھی صدی ہجری سے پہلے لوگ کسی خاص مذہب کے مقلد نہ تھے۔ فرماتے ہیں: " إعلم  أن الناس کانوا قبل المائة الرابعة غیر مجتمعین علی التقلید الخالص لمذہب واحد بعینہ " واضح رہے کہ چوتھی صدی ہجری سے پہلے کسی خاص مذہب کی تقلید پر لوگوں کا اجماع نہیں تھا۔ معلوم ہوا کہ فرقہ بندیاں، شخصی نسبتیں اور مختلف مکاتب فکر جس طرح آج امت مسلمہ میں پائے جاتے ہیں ، عہد نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم اور عہد صحابہ میں اس کا وجود نہیں تھا ۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئیے کہ وہ اپنے تمام مسائل میں کتاب و سنت کی طرف رجوع کرے اور کسی بھی فرقے کا پابند نہ ہو ۔ صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے راستے کو ہی اپنے لئے کامیابی کی راہ تصور کرے۔ ہا ں ! البتہ کوئی گروہ اگر اسی بیان کرد ہ مسلک یعنی صرف کتاب و سنت پر چل رہا ہے اور امتیاز کےلیے کوئی بھی اچھا نام اس کا مشہور ہو گیا ہے، چاہے و اہل سنت کہلاتے ہوں، اہلحدیث، سلفی یا انصار السنۃتو ایسے لوگوں کو نہ فرقہ کہا جائے گا اور نہ ان کے ساتھ وابستگی غلط ہو گی کیونکہ فرقہ وہ ہوتا ہے جو اپنے اصل سے ہٹ جائے اور جو اصل پر قائم ہو، وہ فرقہ نہیں ہوتا اور اگر کسی فرقہ کی نسبت ہی غلط ہو ، وہ کسی شخصیت اور امام کی طرف منسوب ہو جیسے حنفی، شافعی ، مالکی ، قادری ، چشتی وغیرہ تو یہ شخصی نسبتیں اسلام میں جائز نہیں۔ اسی طرح اگر کوئی گروہ علاقے کی طرف منسوب ہو تو علاقائی نسبت اختار کرنا بھی اسلام میں جاز نہیں جیسے بریلوی ، دیوبندی وغیرہ۔ امتیازی نسبت بھی صرف وہی ہونی چاہئے جو اسلام کے صحیح مسلک کو ظاہر کرتی ہو ۔ اول تو بات یہ ہے کہ ہماری بڑی نسبت مسلمان کہلانا ہے اور یہ امتیازی نسبتیں اختیار کرنے کی مجبوری ہوتی ہے جہاں اسلام کا نام لینے والے بہت سے فرقے موجود ہوں یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ سب فرقے صرف مسلمان کہلائیں اور ان کی کوئی اضافی نسبت نہ ہو۔ اگر کوئی گروہ اپنی اضافی نصبت نہیں اختیار کرے گا تو لوگ خود ہی پہچان کے لئے الگ الگ عقائد و نظریات کے لوگوں کو کوئی نہ کوئی نام دے لیں گے اور عملاً بھی یہی صورت حال ہے کہ جو لوگ صرف مسلمان کہلانے کے عادی تھے ، لوگوں کی پہنچان کےلیےان کے نام رکھ دئیے ۔ کوئی پرویزی کہلاتا اور کوئی مسعودی۔ اسلام کا نام لینے والی دنیا میں ایک بھی ایسی جماعت نہیں جس کا مخصوص امتیازی نام نہ ہو۔ اس لئے ہمارا حق یہ ہے کہ صرف کتاب و سنت پر چلیں اور ایسے گروہ کے ساتھ چلیں جو اسی مسلک کا حامل ہو ۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب آپ کے مسائل اور ان کا حل ج 1