کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 1882
سود کی کمائی سے مدارس کا تعاون لینا السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ ایک شخص بنک سے ایک خاص شرح سود پر قرض لے کر کاروبارکرتا ہے ،پھروہ اس قسم کی کمائی سے مدارس سے تعاون کرتا ہے کیا ایسے شخص کا تعاون لینا اور اس کے گھر سے کھاناپینا جائز ہے؟  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! بنک  سے سودپر قرض لے کر کاروبار کرنا ایک سودی کاروبار ہے ۔سودی قرضے دو طرح ہوتے ہیں: (۱)ذاتی قرضے،یعنی وہ قرضے جو کوئی شخص اپنی ذاتی ضرورت کے لئے کسی مہاجن یا بنک سے لیتا ہے۔ (۲)تجارتی قرضے،یعنی وہ قرضے جو تاجر یا صنعت کار اپنی کاروباری اغراض کے لئے سود پر لیتا ہے۔ شریعت میں دونوں قسم کے قرضوں کو حرام قرار دیا ہے کیونکہ ان پر سود دیا جاتا ہے قرآن کریم نے ذاتی قرض کے سلسلہ میں فرمایا ہے کہ‘‘اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کی پرورش کرتا ہے۔’’(۲/البقرہ:۲۷۶) گویا اللہ تعالیٰ نے سود کے خاتمہ کے لئے ذاتی قرضوں کا حل ‘‘صدقات’’تجویز فرمایا ہے اور تجارتی قرضوں کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ‘‘اللہ نے تجارت کو حلا ل کیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔’’گویا اللہ تعالیٰ نے تجارتی قرضوں سے نجات کےلئے شراکت  اور مضاربت  کی راہ دکھائی ہے۔جو حلال اور جائز ہے۔یہ وضاحت ،اس لئے ضروری تھی کہ آج بہت سے مسلمان سود خور یہودیوں کی نمایندگی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس سود کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے وہ ذاتی قرضے ہیں۔جن کی شرح سود بہت  ظالمانہ ہوتی تھی اور جو تجارتی سود ہے وہ حرام نہیں کیونکہ اس وقت تجارتی قرض لینے دینے کا رواج نہیں تھا حالانکہ نزول قرآن کے وقت  تجارتی سود موجود تھا اور سود کی حرمت سے قبل حضرت عباسؓ تجارتی سود کا کاروبار کرتے  تھے۔اس کے علاوہ قرآن کریم میں لفظ ‘‘ربوا’’مطلق ہے جو ذاتی اور تجارتی دونوں اقسام پر مشتمل ہے ۔اس لئے تجارتی سود کو حرمت سے خارج نہیں  کیا جاسکتا ۔اس قسم کی حرام کمائی سے اللہ کی راہ میں مدارس وغیرہ کا تعاون کرنا بھی حرام ہے۔کیونکہ فرمان نبوی ہے:‘‘اللہ تعالیٰ صرف پاکیزہ کمائی سے ہی صدقہ قبول کرتا ہے۔’’ (صحیح بخاری،الزکوٰۃ:۱۴۱۰) ایک دوسری روایت میں اس کی وضاحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :‘‘اے لوگو!اللہ پاک ہے اور وہ صرف پاک مال قبول کرتا ہے۔’’اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو بھی اسی بات کا حکم دیا ہے جس کا اس نے اپنے رسولوں  کو حکم دیا ،چنانچہ فرمایا:‘‘اے پیغمبر! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔’’اور فرمایا:‘‘اے ایمان والو! وہ پاکیزہ چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمہیں دی ہیں۔’’(ترمذی،التفسیر:۲۹۸۹) سودی کاروبار کرنے والے حضرات یہ خیال کرتے ہیں کہ اس حرام کمائی سے تھوڑا بہت اللہ کی راہ میں دینا ،اس سے وہ گناہ معاف ہوجاتا ہے جس کا وہ سودی کاروبار کی شکل میں ارتکاب کرتے ہیں ۔اہل مدارس کو اللہ پر توکل  کرتے  ہوئے ان حضرات کی حوصلہ شکنی  کرنی چاہیے اور ان سے صدقہ  ہرگز قبول نہ کیاجائے۔ اللہ تعالیٰ  اس غیرت و حمیت کے بدلے بہت سے ایسے راستے کھول دے گا جن کا اہل مدارس کو وہم و گمان بھی نہیں ہوگا۔ تحدیث نعمت کے طورپر عرض کیا ہے کہ راقم الحروف نے اپنے ادارہ کے لئے ایسے  کاروباری حضرات کا بائیکاٹ کیا ہے جو سود لیتے دیتے ہیں۔ا للہ کا دین ایسی گندگی اور نحوست  کا قطعاً محتاج نہیں ہے۔ اس بائیکاٹ کی برکت سے ہمیں ادارے کے سلسلہ میں کبھی مالی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔صورت مسئولہ میں بنک سے سودی شرح پر قرضہ لے کر کاروبار کرنے والے کا مالی تعاون قبول نہیں کرنا چاہیےاور نہ ہی  ان کی دعوت کو قبول کرنا چاہیے۔حدیث میں ہے :‘‘جو چیز تجھے شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر اس چیز کو اختیار کیا جائے جو شک میں نہیں ڈالتی ۔’’(مسند امام احمد،ص:۱۵۳ج۳) البتہ اسے وعظ و تبلیغ کے ذریعے اس کاروبار کی سنگینی سے ضرور آگاہ کرتے رہنا چاہیے۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب فتاویٰ اصحاب الحدیث ج2ص262 محدث فتویٰ