کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 1854
ناواقفیت کی وجہ سے سودی چیک لکھ دیا السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ سڑک پر ایک شخص نے میرے بھائی سے کہا کہ مہربانی فرما کر فلاں آدمی کے نام یہ چیک لکھ دیں اور اس کا نام بتایا اور کہا کہ میں اسے لوجہ اللہ تعالیٰ یہ قرض دے رہا ہوں لیکن بعد میں میرے بھائی کو معلوم ہوا کہ اس نے تو اسے سود پر ادھار دیا ہے جس کی وجہ سے میرے بھائی کو چیک لکھ دینے پر بہت ندامت ہوئی، امید ہے آپ اس سلسلہ میں رہنمائی فرمائیں گے؟  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! اگر امر واقع اسی طرح ہے جس طرح آپ نے ذکر فرمایا ہے کہ آپ کے بھائی کو چیک لکھتے وقت یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ سودی قرض کے لیے ہے تو اسے کوئی گناہ نہیں ہے اور وہ اس وعید کے تحت نہیں آتا جس میں سود کھانے والے، کھلانے والے، لکھنے والے اور دونوں گواہی دینے والوں پر لعنت کی گئی ہے۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب محدث فتوی فتوی کمیٹی