کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 183
اہل بدعت کو خوش اسلوبی سے سمجھانا چاہئے السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ میں دمشق کی ایک مسجد میں نماز پڑھتا ہوں۔ ہر فرض نماز میں ایساہوتا ہے کہ جب ہم نماز پڑھ لیتے ہیں تو لوگ ایک کو کہتے ہیں وہ بلند آواز سے آیت الکرسی، سور ت اخلاص اور معوذتیں پڑھتاہے۔ جب وہ پڑھ چکتا ہے تب ہر نمازی آیت الکرسی اور تینوں سورتیں پرھتا ہے ۔ کیا یہ عمل نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے یا بدعت ہے؟ کیا مجھے بھی ان کی موافقت کرنی چاہے اور اس پر ہمیشہ عمل کرناچاہے ؟ مجھے معلوم ہے کہ آیت الکرسی وغیرہ پڑھ سکتا ہے کہ جسے یاد نہیں اسے (سن کر )آیت الکرسی اور معوذتیں یاد ہوجائیں؟ الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! نماز کے  بعدمذکورہ اشیاء بلند آواز سے پڑھنا کسی ایک نمازی کے لیے جائز ہے نہ سب کامل کر بلند آواز سے پڑھناجائز ہے اگرچہ تعلیم کے ارادہ سے ہی ہو، بلکہ یہ بدعت ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے ایسا کرنا ثابت نہیں ۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد موجود ہے۔ ((مَنْ أَحّدَثَ فِی أَمْرِنَا ہذا مَالَیْسَ مِنْہ فَہوَ رَدٌّ)) ’’ جس نے ہمارے اس دین میں وہ چیز ایجا دکی جواس میں سے نہیں تو بہ ناقابل قبول ہے۔‘‘ اس لیے آپ کو ان کی بدعت کی تائید نہیں کرنی چاہے بلکہ اس کی تردید کر دیں اور اچھے طریقے سے نصیحت کے انداز سے ان کو صحیح بات سمجھائیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ادْعُ إِلَیٰ سَبِیلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْہُم بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ...١٢٥﴾...النحل ’’ اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دیجئے اور ان سے اس انداز سے بحث کیجئے جو بہت اچھا ہو۔‘‘ اور یہ حدث ثابت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ((مَنْ رَّاٰی مِنْکُمْ مُّنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہ بِیَدِہ فَإِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہ فَإِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہ وَذٰلِکَ أَضْعَفُ الْإِیمَانِ )) ’’ تم میں سے جو شخص کوئی برا کام دیکھے اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے ، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے (منع کرے) اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل سے (برا سمجھے) اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔ ‘‘  ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب فتاویٰ دارالسلام ج 1