کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 1787
یہ علاقہ ایک راجہ کے ماتحت...طریقہ یہ ہے عام طور پر مردارچمڑے دیہاتی السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 188 یہ علاقہ ایک راجہ کے ماتحت ہے اور یہاں کا ایک طریقہ یہ ہے عام طور پر مردارچمڑے دیہاتی لا کر فروخت کرتے ہیں جن کی بین شناخت ہے کہ یہ مردار ہیں نیز قدرے قلیل ذبیح بھی اسمیں شامل ہیں مگر بہر کیف مردار چمڑے کی مشتری کو پوری شناخت ہے علاوہ ازیں یہ چیز راجہ کی طرف سے نیلام کیجاتی ہیں جس کے نام نیلام ختم ہوگا  اس کے علاوہ کوئی دوسرا شخص حلقہ اسٹیٹ میں یہ چیزیں نہیں  خرید سکتا زید بائع کو پوری قیمت دے کر چمڑے خریدے  گا ۔ اور یہ دو ہزار زید نے راجہ کو گویااس حق کے حصول کے لئے دیا ہے کہ  میرے سوا کوئی دوسرا شخص  قانونا چمڑا نہ خریدے۔ الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! اس ٹھیکہ کا مقصد یہ ہے کہ حکومت اپنا حق منافع اس کے ہاتھ بیچتی  ہے اس میں کچھ مواخذہ تو حکومت پر ٹھیکیدار پرنہیں بیع میں کوئی دھوکہ نہیں  بیع میں نہ بائع مجبور ہے اور نہ مشتری تعاقب۔اہلحدیث مجریہ 22 جولائی  1936  جواب 188 کے متعلق یہ عرض ہے کہ حکومت سے جو حق منافع خرید تا ہے اس مشتری کے نزدیک مقدار مبیع کس قدر ہے جسکی وہ ایک متعین قیمت منظور کرتا ہے سوال ظاہر ہے کہ مقدار  بیع مجہول و نا معلوم اورغیر متعین ہے۔ممکن ہے کہ تعداد پانچ تک پہنچ جائے۔اور یہ بھی ہوسکتا ہے 3 تک بھی پہنچے اور یہ واقعہ بھی ہے پس مشتری نے ایک 400 کی معین رقم کس قدر تعداد مبیع کے حق میں منافع کی صلہ میں راجہ کو ادا کی مزید براں مبیع و حق منافع کی کیفیت و  کمیت سے راجہ و ٹھیکہدار ہر و واقف مگر کیا وجہ کہ ہندو راجہ ماخوز ہو اور ایک مکلف شرع مسلمان ٹھیکہ دار آزاد و خود مختار ۔باللعجب  امید کے تفصیل ااور وضاحت سے تشفی فرما  ہیں گے۔ جواب۔حکومت بائع نہیں نہ ہی مشتری ہے بلکہ ٹھیکہ دار اور ٹھیکہ گیرہے حکومت محض اپنا حق حکومت لیتی ہے جو اس کے قانون میں جائز ہے جیسےانگریزی علاقےمیں بندو بست  سالہ اراضی پر حکومت کا حق لگان لگایا جاتا ہے آجکلاس کی امثلہ بکثرت ہیں یوں سمجھیں کہ حکومت ایک معنی سے کمیشن یا دلالی لیتی ہے جوج اس کا حق حکومت ہے ایسی ضروریات میں شرعیات سے جزیات تلازشکرنے کی بجائے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ شریعت کی طرف  سے ممنوع منصوص نہیں۔ نوٹ۔ غالبا ٹھیکہ دارکو مشتری سمجھنے سے غلطی لگی ہے حالانکہ وہ مشتری نہیں ہے بلکہ  ٹھیکہ گیر ہے جو راجہ کو محض ح حکومت دیتا ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ راجہ اس سے اس قسم کا ٹیکس وصول کرتا ہے۔(اہلحدیث امرتسر 21 اکتوبر  1934) (فتاوی ثنایئہ جلد 2 ص 406۔407)   فتاویٰ علمائے حدیث جلد 14 ص 206 محدث فتویٰ