کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 1781
مروجہ مزارعت السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ یہاں ایک شخص نے بٹائی پر زمین دینے کے مروجہ سلسلہ کو سودی کاروبار قرار دے دیاہے میرے ساتھ اس کی گفتگو ہوئی تو ۔المعلم۔ترجمہ صحیح مسلم شریف  صفھۃ 1628۔ تا 1632 جلدنمبر 2 پیش  کر کے تعامل نبوی و صحابہ کے علاوہ حضرت ابن عباس سے مخابرہ کی تعریف دکھلائی تو اس اثر صحابی قرار دے کرمندجہ زیل اعتراض  لکھ کر تفصیل طلب کی ہے  ابو داود شریف میں باب المزارعۃ مین مندرجہ  ذیل دو احادیث ہیں جن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ن فرمایا کہ بٹائی پر زمین دینا سود ہے اور جو اس کو چھوڑنے پر تیار نہ ہو وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑائی پر تیار ہوجائے۔ 1۔عن رافع بن خدیج یعنی انہوں نے جو کھیتی کر رکھی  تھی۔اس کی مزارعت کے متعلق  رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!کہ یہ سود کا کاروبار ہے زمین واپس کرو اور اپنا خرچ ان سے لو 2۔جابر۔(جو) بٹائی چھوڑنے  پر تیار نہ ہو۔وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑائی کرنے پر تیار ہو جائے۔اس کے علاوہ بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت بہت سی احادیث نہی کی بابت وارد ہیں اس سلسلہ میں خیبر  والی حدیث سے استدلال کیاجاتا ہے لیکن تاریخی  طور پر  یہ ثابت ہے کہ  حضرت عمر نے جب  ان کو نکالا تو ان کو ان کی اراضی کی قیمت ادا کی اگر وہ مالک تھے تو پھر بٹائی کا سوا ل ہی نہیں پیدا ہوتا سود کی جو تعریف کی جاتی ہے اس ےس بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سودہے مثلا ایک آدمی کے پاس ایک ہزار رویہ ہے اگر بینک  میں جمع کرائے وہ اس سے بیس وپے سود لے تو اس کو حرام کہاجاتا ہے اگر اس رقم کی زمین لی جائے اور اس سے تقریبا دو صد روپےلے لئے جائیں۔تو  وہ کیسےسود نہیں بنتا پھر زمین کومزارعت پر دینے کا جو رواج عام ہے اس ملک میں اگر یہ غلط ہے تو اب تک خاموشی کیوں رہی۔ابو دائود شریف کی جن احادیث مذکور کیو پیش کیا گیا ہے اس کے الفاظ یا رواۃ میں بھی مجھے شک ہے مگر صحیح مسلم میں منع کی احادیث بھی  آئی ہیں ان کے متعلق دیگر ائمہ اہل حدیث کے علاوہ امام ابو حنیفہ اور امام زفر سے حرمت کا فتوی بھی دیگر ائمہ سے بڑھ کر ہے۔(معلم) لہذا جناب مفصل روشنی ڈال کر ممنون فرمائیں۔ الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! ۔ مزارعت کی مختلف صوتیں ہیں 1۔ایک صورت یہ ہے  پیداوار کے حصوں پر زمین دی جائے۔یعنی جو پیدا ہو اس سے مزارع اتنا حصہ لے اور باقی مالک۔امام ابو حنیفہ اسے منع خیال کرتے ہیں امام شافعی اس صورت میں جائز سمجھتے ہیں جب مزارعت تبعی صورت یعنی اصل معاملہ باغات میں ہو۔اور سفید زمین میں تبعی طور پر مزارعت جائز ہے اگر صرف زمین کا معاملہ  ہو تو اس میں مزارعت نا جائز سمجھتے ہیں۔امام مالک بھی تبعی صدقات میں مزارعت  کو جائز قرار دیتے ہیں مگر یہ قید لگاتے ہیں کہ سفید زمین ثلث ایک بٹہ تین تکیہ ہو تو جائز ہے ونہ جائز نہین امام احمد بن حنبل ۔امام محمد ۔امام ابو یوسف۔ابن ابی لیلیٰ۔سعید بن مسیب  ۔محمد بن سیرن ۔زہری۔ اور حضرت عمر بن عبد العزیز جائز سمجھتے ہیں۔ 2۔دوسری صورت یہ ہے کہ زمین کوسونے چاندی کے عوض دیاجائے اس کو ائمہ اربعہ جائز سمجھتے  ہیں۔ 3۔تیسری صورت یہ ہے کہ زمین کے حصے کئے جائیں مزارع تمام زمین کاشت کرے۔مگر بعض حصوں میں اپنے لئے کاشت کرے اور بعض حصوں میں مالک کے لئے یہصورت  بلاتفاق ممبوع ہے یعنی زمین کے تیسرے حصہ میں مالک کے لئے اور دو حصوں میں اپنے لئے اور یہ حصہ معین کرے۔ 4۔چوتھی صورت یہ ہے کہ جو پانی کے سامنے اور نالی کے قریب ہو ۔سو مالک کے لئے  اور جو دور ہو وہ کاشت کار کےلیے یہ بھی بالاتفاق منع ہے۔جن احادیث میں مزارعت کی ممانعت آئی ہے وہ حدیثیں دو قسم کی ہیں بعض ضعیف اور بعض صحیح اور صحیح بھی دو قسم کی ہیں بعض میں مطلق مزارعت کی ممانعت ہے اور بعض میں تیسری اور  چوتھی صورت کی تصریح موجود ہے یعنی زمین کے حصے کرنے کی صورت ہے یا پانی کے قریب و بعید کی صورت ہے اور بعض حدیثوں میں پہلی صورت کی ممانعت کا ذکر ہے اور بعض میں جواز کا ذکر ہے۔اب تفصیل سنیے وہ حدیث جس میں بٹائی پر زمین دینا سود شمار کیا گیا ہے وہ حدیث ضعیف ہے قابل احتجاج نہیں ہے ابو داود میں جو اس کی سند مذکور ہے اس  میں بکیربن عامر ہے اور حافظ ابن حجر نے تقریب میں لکھا ہے کوہ ضعیف ہے میزان میں ہے ابن معین اور نسائی نے اس کو ضعیف قراردیا ہے ابوزرعہ  نے کہا نے کہا کہ وہ قوی نہیں ہے۔اس حدیث میں لفظ ہیں کہ یہ سود کا کاروبار ہے زمین واپس کرو ان سے اپنا خرچ واپس لو پھر اس حدیث مین یہ زکر نہین کہ انہوں نے پیداوار کے حصے کس صورت میں مقرر کیے تھے کیا زمین کے حصے نصف نصف کر رکھے تھے یا خارج کئے دوسری حدیث میں چونکہ اس امر کی تصریح ہے۔کہ جس مزارعت کی ممانعت ہے اس کی صورت یہ ہے زمین کے حصے مقرر کیے ہوں ممانعت والی حدیث کے راوی رافع بن خدیج سے بھی ابوداود اور مسلم وغیرہ میں اس امر کا تذکرہ موجود ہے چنانچہ وہ کہتے ہیں۔انما کان الناس یواجرون علی عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وبما علی المازیانا ت واقبل الجد اول واشیا من الزرع فیہلک ہذ ویستم ہذ ویسلم ہذا ویہلک ہذا ولم یکن للناس کراہة والا ہذا فذلک ذجرعہ ابو داود وغیرہ 2۔جابر کی حدیث جس میں یہ زکر ہے۔جو بٹائی چھوڑنے پر تیار نہ ہو وہ اللہ اور اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑائی لڑنے پر تیار ہو جائے یہ حدیث بھی ابو داود کی ہے اس حدیث کی سند میں ابو الزیر مکی ہے وہ مدلس ہے۔ مدلس کے متعلق یہ اصول ہے جب اس کی سند میں لفظ عن ہو تو وہ حدیث صحیح  نہیں ہوتی ۔لہذایہ حدیث صحیح نہ ہوتی کیوں کہ اس کی سند میں ابو الزیر مکی عن کہہ کر روایت کرتا ہے۔تقریب میں حافظ ابن حجر نے میزان میں علامہ ذہبی نے اورخلاصہ وغیرہ  میں اس کو مدلس قرار دیا ہے۔وہ احادیث جن میں مزارعت کی ممانعت ہے ان  احادیث میں مزارعت  سے مراد وہ مزارعت ہے جس میں زمین کے حصے کر کے زمین کاشت پر دی جائے ایک حصہ مالک کا ہو دوسرا حصہ کاشتکار کا کیونکہ بعض روایات میں اس کی تصریح موجود ہے اور یہ قاعدہ ہے جب ایک جگہ نص مطلق وارد ہو اور دوسری جگہ مقید ہو۔ تو اگر ایک ہی حارثہ اور ایک ہی حکم ہو تو مطلق مزارعت کی ممانعت ہے ان کو قید پر محمول کیا جائے گا یعنی ان سے ممانعت کی  وہی صورت مراد لی جائے گی جس کی تخصیص و تقید ددوسری احادیث مقیدہ میں واردہے پس جن احادیث میں مخابرہ یا مشاعرت یا کرایہ پر لینے سے مراد وہ صورت ہوگی جس کا خاس طور پر حضرت رافع بن خدیج کی روایات میں ذکر واردہے۔یعنی زمین کےبعض حصے کرنے کی صورت میں یا پانی کے قریب وبعید مواقع متعین کرنے کی صورت میں ہو۔اور جن احادیث  میں پیداوار کے حصہ ریا ٹھیکہ پرزمین ا پنے سے روکا گیاہے۔ان احدیث میں در اصل مخالفت کا ذکر نہیں بلکہ مواسات کی صورت بتائی گئی۔۔ہے چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں۔ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لم ینہعنہا ولکن قال لیمنع احد کم ارضہ خیر لہ من ان یا خذ علیہا اجر معلوما )ابوداود( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بٹائی پرزمین دینے سے منع نہیں کیا  بلکہ یہ فرمایا ہے کہ زمین کو بٹائی پر دینے سے بہتریہ ہے کہ کسی کو مفت کاشت کاری کیلئے دی جائے اور بعض روایات سے ایسا معلوم ہوتا ہےکہ آپ نے جو منع فرمایا تھا س کی وجہ یہ تھی کہ ایک دفعہ مالک اور مزارع آپس میں جھگڑے اور لڑے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ان کان ہذا شائنکم فلا تکروا المزارع ذ اد مسدر فسمع قولہ لا تکروا المزارع (ابوداود( زید بن ثابت کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ رافع بن خدیج پر رحم کرے اللہ کی قسم ہے مجھے اس حدیث کا علم رافع بن خدیج سے زیداہ ہ اصل واقعہ یہ ہے کہ مالکاور مزارع آپس میں لڑ پڑے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ایسا کر نا ہے تو کھیت بٹائی پرمت دو  حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔کہ اگر تم مصالحت کی صورت میں کام نہیں کرتے  بلکہ لڑائی کرنے لگتے ہو۔اگر ایسا کرنا ہے تو آیندہ بٹائی پر زمین نہ دینا۔امام بخاری نے مخالفت کی روایات کو مواسات پر محمول کیاہے۔اور اہل مدینہ کے متفقہ مسائل سے جواز پر استدلال کیاہے۔چنانچہ ممانعت کی احادیث کو مندرجہ زیل باب میں ذکر کیا ہے۔باب ماکان اصحابرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یواسی بعضم بعضا فی الزراعة (بخاری جلد 1 س 35) اس باب میں اس  بات کا زکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےصحابہ زراعت  میں ایک دوسرے کے ساتھ مواسات کیا کرتے تھے یعنی بٹائی اور  اجرت کے ۔۔۔ایک دوسرے کو زمین سے دیا کرتے تھے۔اور مزارعت کے ثبوت میں لکھا ہے۔ حضرت امام باقر فرماتے ہیں مدینہ میں جتنے مہاجر خاندان تھے سب بٹائی پر کاشت کرتے تھے۔حضرت علی۔حضرت سعد بن مالک۔حضرت عبد اللہ ابن مسعود۔حضرت عمر بن عبد العزیز ۔حضرت قاسم ۔حضرت عروہ۔حضرت ابو بکر  کا خاندان ۔حضرت عمر  کا خاندان۔حضرت علی کا خاندان ابن سیرین ۔یہ سب بٹائی پر زمین دیتے تھے۔ خیبر کی زمین کے مالک مسلمان تھے۔یہود صرف کاشت کار تھے۔ جب ان کونکالا گیا تھا تو اس وقت جو ان کا حصہ کاشتکاری کا تھا صرف اس کا معاوضہ ان کو دیا گیا تھا۔اور یہ بات کہ ان کو زمین کا معاوضہ دیا گیا تھا۔صحیح طور پر ثابت نہیں ہے اور حدیث میں ہے۔ وکانت الارض حین ظہر علیہا للہ ولرسولہ وللمسلمین بخاری جلد اول ص 315 جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر پر ٖغالب ہوئے تو وہ زمین اللہ اور اس کے رسول اور اہل اسلام کی ہوگئی تھی۔بٹائی اور سود میں فرق واضح ہے سود کی صورت میں اگر رقم ضائع ہو جائے تو مدیون ذمہ دار ہوتا ہے۔ اصل مالک ذمہ دار نہیں ہوتا اور بٹائی کی صورت میں اگر زمین سیلاب یا دریا برد ہو جائے تو مزارع  ذمہ دا رنہیں ہوتا۔یہ تاوان سب مالک پر پڑتا ہے اصل میں یہ صورت مضاربت کے ساتھ ملتی ہے جیسے مضاربت میں ایک شخص کی ر قم ہوتی ہے اور  دوسرے کا عمل اور نفع میں دونوں شریک ہوتے ہیں اسی طرح بٹائی کی صورت میں جو  پیداوار ہوگی اس میں دونوں شریک ہوں گے اگر زمین ہلاک ہوتی ہے تو مالک کی ہوتی ہے۔مضاربت میں اگر رقم ضائع ہو تو مالک کی ہوگی ۔بخلاف سود کے اس میں رقم باقی رہتی ہے۔اس کازمہ دار مدیون ہوتا ہے وہ صرف نفع ہی حاصل کرتا ہے اگر بالفرض بٹائی کی صورت میں  پیداوار تباہ ہو جائے تو اس صورت میں صحیح مسئلہ یہ ہے کہ مالک بقدر تباہی رقم واپس کر دکے اگر تباہ نہ ہو تو بالکل مضاربت کی صورت  ہوگی۔(فی الحال اسیر مختصر تحریر کافی ہے()بحوالہ الاعتصام جلد 13 شمارہ 9(   فتاویٰ علمائے حدیث جلد 14 ص 195-201 محدث فتویٰ