کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 1746
غیر آباد زمین جو کسی کی ملک میں نا ہو السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ ہمارے گاؤں کے اردگرد ٹنڈر یعنی  خالی زمین کے ٹکڑے تھے سرکار انھیں فروخت نہیں کرتی تھی۔عالمی جنگ شروع ہوئی تو گونمنٹ انگلشیہ نے جنگ کے لئے اناج زیادہ پیدا کرنے کی سکیم پر عمل کرتے ہوئے اراضی مذکورہ کاشت کی لئے تقسم کی زمیندار ایک پرچی پر فی ایکڑ کے حساب سے کچھ رقم لکھ کر گورنمنٹ کو پیش کرتے ہیں جس کی قیمت فی ایکڑ زیادہ ہوتی گورنمنٹ اس کے نام ٹنڈر تقسیم کر دیتی اور باقی محروم رہ جاتے سرکار جو زمین اسے دیتی اس کی رقم پیشگی جو اس نے پرچی پر لکھی ہوتی وصول کرلیتی لگان اراضی اس کے علاوہ ہوتا ہم بستی والوں نے اس طرح کچھ زمین ٹینڈر سرکار  سے حاصل کر کے اس کو آباد کیا۔اراضی چند اشخاص کے نام ہوتی جس کی تمام آمدنی وہ درس کی لئے دے دیتے پہلی رقم اور دولگان اراضی وغیرہ مرسہ ہی ادا کرتا یہ اس لئے کیا گیا کہ سرکار مدرسہ کے نام زمین آباد کرے کی لئے نہیں دیتی تھی۔آٹھ دس سال سے اسی طرح عمل ہوتا رہا پھر پاکستان بننے کے بعد بھی ایسا ہی عمل رہا اب گورنمنٹ پاکستان نے اعلان کیا کہ تمام ٹنڈر مہاجرین کے لئے تقسم کیے جائیں چنانچہ تمام ٹنڈر مہاجرین کو تقسم کردیئے گئے۔ اب بعض علماء کہتے ہیں کہ زمین غیر آباد کو مدرسہ نے آباد کرایا ہے۔اس لئے سرکار کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ کسی مہاجر وغیرہ کو تقسم کرے کیونکہ جو زمین غیر آباد  کو آباد کرے وہ اسی کی ہےاب جو اس پر قبضہ کرے گا وہ شخص مدرسہ کے حق کا غاصب شمار ہوگا۔ بعض کہتے ہیں کہ بادشاہ کا حق ہے جس کسی کو دے اسی کو حلال ہے۔اگرچہ درس کے قبضہ کو آٹھ دس سال گزر چکے ہیں ان دونوں میں کون حق پر ہے جواب مفصل اور بادلائل لکھیں بینوا توجروا (سائلان محمد باقر مہتمم مدرسہ کادم القرآن والحدیث واہل دیہہ چک 427/گ ب جھوک داود ڈاک خانہ تاندلیانوالہ تحصیل سمندری ضلع فیصل آباد( الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! آپ کا سوال عرصہ سے آیا ہوا ہے لیکن کاغذات میں کہیں گم ہوگیا تھا اتفاق سے اب ملا لیکن تاخیر ہوجانے سے مسئلہ کی حیثیت نہیں بدلتی اس لئے ہمارا فرض ہے کہ مسئلہ کو واضح کردیں کوئی عمل کرے یا نہ کرے جو عمل نہیں کرے گا بوجھ اس پر رہے گا ہم بری الذمہ ہیں۔یہ مسئلہ مختلف فیھا ہے۔امام شافعی امام ابو یوسف امام محمد اور اہل حدیث کہتے ہیں کہ اذن امام کی ضرورت نہیں بے آباد زمین کوجو آباد کرے۔اس کا حق ہے خواہ آبادی سے نزدیک ہو یادور اور امام ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ اذن امام شرط ہے خواہ دور ہویا نزدیک اور امام مالک کہتے ہیں۔کہ نزدیک کےلیے اذن امام شرط ہے نہ دور کے لئے۔ دلیل نمبر 1 مذہب اول! حدیث )رواہ البخاری۔مشکواۃ۔باب احیاءالاموات والشرب ص259( حضرت عائشہ سے روایت ہے۔کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو غیر زمین کو آباد کرے۔(جو کسی کے ملک میں نہیں ہے۔) بس وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔ دلیل نمبر 2 مذہب ثانی (جو علامہ عینی نے پیش کی ہے۔حدیث صعب بن جثامہ سےروایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا چراگاہ نہیں ہے مگر اللہ و رسول کےلیےحدیث شاہ عبد الحق محدث دہلوی اللمعاف شرح مشکواۃ میں لکھتے ہیں کہ ابو حنیفہ کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ مرد کےلیے وہ چیز ہے کہ جس کے ساتھ ان کے امام کا دل خوش ہو۔اسی طرح ملا علی قاری نے شرح مشکواۃ میں لکھا ہے۔(مرقاۃ ج3 ص366( دلیل نمبر 3 مذہب ثالث ان کی دلیل وہی ہے جو مذہب اول کی ہے صرف حدیث کے معنی میں انہوں نے کچھ تاویل کی ہے زرقانی جلد ص29 میں ہے۔حدیث یعنی معنی حدیث کا یہ ہے کہ جنگلات کی زمین اور جو آبادی سے دور ہے اس کے آباد کرنےوالا اس کا حقدار ہے او رجو آبادی کے قریب ہے۔اس کا آباد کرنا اذن امام کے بغیر جائز نہیں امام مالک کا مطلب یہ ہے کہ جو آبادی کے قریب ہے۔اس کے ساتھ بعض موقع پر عام مسلمانوں کے مصالح وابستہ ہوتے ہیں۔اس لئے اس میں اذن امام کی ضرورت ہے جیسے امام کو عام مسلمانوں کے لئے چراگاہ بنانی ہو یا چھاؤنی کی ضرورت ہو اس قسم کی ضروریات کےلئے نزدیک کی زمین کسی مسلمان کو اپنے مفاد کے لئے آباد کرنے کا حق نہیں کیونکہ اس میں عام مسلمانوں کا نقصان ہے۔ فیصلہ امام شافعی فرماتے ہیں۔جب شرع سے اذن ہوچکا تو پھر امام سے اذن لینے کی کیا ضرورت ہے۔اصل امام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔بس ان کا فیصلہ کافی ہے امام زرقانی امام شافعی کا یہ قول نقل کر کے  فرماتے ہیں۔اصل نزاع اس میں ہے کہ حدیث  من عمرا رضا یامن احیا ارضا یہ حکم ہے  یا فتوی ہے۔اگر حکم ہو تو اذن ضروری ہے۔کیونکہ حکم اپنے محل پر بند رہتا ہے یعنی جن لوگوں کے حق میں آپ نے یہ فیصلہ دیا ہے بحیثیت حاکم وقت اور بادشاہ ہونے کے ان کے حق میں ازم ہوگیا اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ دوسروں کے لئے بھی ازن ہو جائے اور اگر فتویٰ ہو تو فتویٰ عام ہوتا ہے۔ جس کی حیثیت عام مسئلہ کی ہوتی ہے۔جو موجودہ لوگوں کے  علاوہ قیامت تک سب لوگوں کےلیے یکساں ہے۔جیسے شریعت کے عام مسائل ہوتے ہیں۔ا س صورت میں میں حدیث کا مطلب یہ ہوگا۔کہ شرع نے ایک اصول مقرر کردیا ہے۔ کہ جو بھی غیر آباد زمین کو آباد کرے وہ اس کا مالک ہے جیسا یہ اصول مقرر ہے کہ کوئی شخص کوئی چیز خریدے تو وہ اس کا مالک ہوجاتا ہے یا نہرسے پانی کی مشک بھرے یا کنوئیں سے پانی لے لے یا بارش کا پانی جو اوپر سے آتا ہو جس کا کھیت سے پہلے آئے گا وہ اس کا پہلے حقدار ہوگا کہ اپنا کھیت پہلے بھرلے۔اس قسم کی صوتوں میں اذن امام کی ضرورت نہیں ہے ایسے ہی شرع نے ایک اصول مقرر کر دیا ہے کہ جو شخص غیر آباد زمین کو آباد کرے وہ اس کا حقدار ہے اس میں بھی اذن امام کی ضرورت نہیں جمہور علماء  نے اس حدیث کو فتویٰ کی صورت دی ہے۔اور  امام ابو حنیفہ نے اس کو حکم کی صورت دی ہے۔جو خاص لوگوں کے حق میں بطور فیصلہ حاکم وقت کی طرف سے ہوا ہے۔ لیکن یہ بات ظاہرہے کہ حدیث کے الفاظ عام ہیں ان کو خاص لوگوں کے حق میں فیصلہ بنانا بغیر کسی دلیل کے جائز نہیں ۔ علامہ عینی نے شح بخاری میں حدیث ا لا للہ ولرسولہ اس کی دلیل پیش کی ہے۔ اور شیخ عبد الحق محدث دہلوی اور اور ملاعلی قاری نے حدیث لیس للمر ء الا ما طاب بہ نفس اما مہ پیش کی ہے۔لیکن علامہ عینی نے جو  حدیث پیش کی ہے وہ اگر چہ صحیح ہے لین اس سے استدلال صحیح نہیں ہے کیونکہ وہ غیر امام کےلئے چراگاہ کی نفی کرتی ہے۔نہ اس بات کی کہ کوئی زمین آباد کرلے تو اس کا ھق نہیں جب حدیث سے ثابت ہوگیا تو ایسا ہوگیا جیسے دوسرے لوگزمینوں کے مالک ہیں خواہ خرینے سے ہبہ سے یا میراث وغریہ سے جیسے ان کی ملکیت میں بادشاہ دخل دےکرچراگاہ نہیں بنا سکتا اسیے ہی وہ اس آباد کرنے والے کی زمین میں بھی دخل نہیں دے سکتا ۔ بہر صورت علامہ عینی کی دلیل صحیح نہیں۔ رہی دوسری حدیث لیس للمرء تو اس کا نہ ن تو کئی حوالہ ہے نہ اس کی کوئی سند کا پتہ ہے اس کے عالوہ اگر یہ حدیث عام لی جائے تو نکاح طلاق وغیرہ کے مسائل میں بھی حکومت کا دخل ہو جایئگا۔جب تک حکومت کی اجازت نہ ہونا نکاح ہوسکے گے نہ طلاق ہوسکے گی۔بلکہ موجودہ حکومت کے عائلی قوانین سب صحیح ہوجائیں گے حالانکہ علماءمتفق ہیں کہ حکومت کی یہ مداخلت  شرع میں جائز نہیں سب پہلا مذہب درست ہے اور اس کی تائیدحضرت عمرکے فیصلہ سے بھی ہوتی ہے جو ذکر ہوچکا ہے۔حافظ ابن حجر نے فتح الباری ج5 ص 14 میں اس کا سبب یہ لکھا ہے کہ عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے زمانے میں لوگ زمین پر منڈیر بنا کر قبضہ کرتے حضرت عمر نے اس موقعہ پر فرمایاکہ!جب تک اس کو آباد نہ کیا جائے کواہ عمارت بنائی جائے یا کھیتی بوئی جائے یا باغ لگایا جائے ملکیت کاحق نہیں ہوتا۔ یہ اس بات کی صاف دلیل ہے کہ حضرت عمر نے اس حدیث کو فتوی قرار دیا ہے۔امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ قریب والی زمین اس حدیث میں شامل نہیں یہ قیاس ہے۔حدیث عام ہے ہاں جو بالکل نزدیک ہو جس کو آبادی والے استعامل کرتے ہیں مثلا ان کے مال مویشی وہاں ٹھہرتے ہیں اور لوگوں کے عام طور پر وہاں اجتماعات عیدین جنازہ وغیرہ ہوتے ہیں جس کو آبادی کی ستھ یا بنجر زمین کہتے ہیں اس کو آباد کرنے کا کسی کو حق نہیں حدیث کے الفاظ  بست لاحد میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے کیونکہ یہ زمین آبادی سے متصل وہنے کی وجہ سے ان لوگوں کی ہے جو وہاں آباد ہیں۔جیسے کنویئں کا صحن ہوتا ہے یاکنوئیں کے گرد و نواح چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ جو کنواں کھو دے اس کے گرد ونواح چالیس ہاتھ اس کا حق ہے۔ امام زرقانی نے ایک اور حدیث نقل کی ہے۔جو اس مسئلے میں صاف ہے چنانچہ فرماتے ہیں۔حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سب بندے اللہ کے بندے ہیں۔ اورسب شہر اللہ کے شہر ہیں پس جو غیر آباد زمین کو آباد کرے پس وہ اسی کی ہے۔اس حدیث میں صاف فیصلہ ہے کہ اس میں ازن امام کی ضرورت نہیں کوینکہ زمین کاحق صرف اللہ کے بندے ہونے کی وجہ سے دیا گیا ہے۔اگرامام کا دخل ہو تو  پھر رعیت ہونے کا دخل  ہوجاتا ہے جو اس حدیث کے خلاف ہے اسی بنا پر عروہ تابعی حضرت عائشہ کے بھانجے بڑے زوردار الفاظ میں فرماتے ہیں کیسا کہ ابو داؤد نے روایت کیا ہے:میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:زمین بھی اللہ کی ہے اور بندے بھی اللہ کے ہیں۔اور جو مردہ زمین آباد کرے وہ اس کا حقدار زیادہ ہے۔میرے نزدیک یہ حدیث وہ لوگ  لائے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم تک نماز پہنچائی۔پس صحیح فیصلہ سوال مذکور کے متعلق یہی ہے کہ زمین مدرسہ کی ہے حکومت کو چاہیے کہ زمین مدرسہ کے حوالے کردے اور مہاجرین کوکسی اور جگہ آباد کرے۔(تنظیم اہل حدیث لاہور جلد16 شمارہ 289( فتاویٰ علمائے حدیث جلد 14 ص 138-144 محدث فتویٰ