کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 1716
یا اس طرح دونوں طرف سے کمیشن لینی جائز ہے؟ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ ایک صاحب اناج کی منڈی رکھتے ہیں۔ان کی تجارت کا طریقہ یہ ہے۔کہ جو لوگ اناج لاتے ہیں۔اس کو نیلام کر کے اپنے کمیشن کاٹ کراناج کا روپیہ اپنے پاس سے ادا کر دیتے ہیں۔اور اناج کے خریداروں سے اپنی کمیشن بڑھا کرروپیہ روپیہ وصول کر لیتے ہیں۔کیا اس طرح دونوں طرف سے کمیشن لینی جائز ہے۔(عبدالحکیم) الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! بعض مسائل عرف عام پر مبنی ہوتے ہیں۔اگر اس منڈی میں دونوں طرف سے کمیشن لینے  کا رواج ہے۔تو کوئی حرج نہیں اگر نہیں ہے تو دو طرف سے نہ لے بہر حال منڈی کے حالات پر موقوف ہے۔(اہل حدیث جلد 43۔44) شرفیہ صورت مرقومہ میں حکم جواز ثابت نہیں رہا آڑھت کا معاملہ تو اس کے جواز کی یہ صورت ہے۔کہ آڑھتی صاحب سے اپنے مکان دکان پر مال یا خود صاحب مال کے ٹھہرانے کا کرایہ لے سکتا ہے۔کہ معاوضہ مکان کا ہے۔ایسے ہی تلوائی مال کا معاوضہ یا کسی چیز ٹھیلہ وغیرہ  سے نکلوا کر بوریوں وغیرہ میں بھروانے لدوانے کا انتظام کرنا وغیرہ کی اجرت لے سکتا ہے۔جو شرعاً جائز ہے۔مگر یہ سب مال والے سے ہے۔کہ توں جو کچھ مالک مکان کے ذمہ ہے۔بحکم حدیثاذا ابتعت فاکتل واذا بعب فکل رواہ احمد قال فی مجمع الزواید اسنادہ حسن کذاقی اللیل (جلد 5 ص126) اب اس اجرت کا نام کمیشن  رکھ لو یا اجرت و کرایہ غرض یہ جائز ہے۔اور مشتری سے کمیشن  یا اجرت لینا جائز نہیں ہاں اگر مشتری کو بھی اپنی دکان مکان پر ٹہرانے یا مال لدوانے بوریوں یا ٹھیلے میں رکھوانا یااور کسی قسم کا انتظام کرنا ہو تو اس سے ان امور کا معاوضہ و اجرت لینی جائز ہے۔ ورنہ نہیں۔واللہ اعلم(ابو سیعد شرف الدین دہلوی) (فتاوی ثنائیہ۔جلد2  صفحہ393۔394) فتاویٰ علمائے حدیث جلد 14 ص 112 محدث فتویٰ