کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 1713
ایک شخص کا محض روپیہ ہے اوردوسرا صرف کاروباری السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ دو اشخاص اس طرح شراکت میں کام کرتے ہیں۔کہ ایک شخص کا محض روپیہ ہے۔اوردوسرا صرف کاروباری دیکھ بھال خریدو فروخت کرتا ہے۔ نفع نقصان کا حصہ اسی طرح مقرر ہے۔فریق اول کا دو تہائی یا نصف مقررہے۔علی ہذالقیاس دوسرے کا ایک تہائی یا نصف اب سوال یہ ہے کہ اس طرح کا کاروبار ہر دو فریق کو جائز ہے۔یا ناجائز اگر ناجائز ہے تو کس فریق کو آیا فریق اول کو یا دوم کو؟ الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! یہ بیع جائز نہیں  لا بیع ما لیس عندک (الحدیث)ترجمہ۔جو چیز تمہارے پاس نہیں تم اس کی بیع نہ کرو اس صورت کو بھی شامل ہے۔(اہل حدیث امرتسر 24 محرم 1355ھ) (فتاوی ثنائیہ۔جلد2ص ۔392) فتاویٰ علمائے حدیث جلد 14 ص 111 محدث فتویٰ