کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 1709
عورتوں کو خواہ مسلمات ہوں یا غیر مسلمات اغوا کر کے فروخت کر دیتے ہیں...الخ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ پنجاب یا دیگر علاقوں میں جو آدمی عورتوں کو خواہ مسلمات ہوں یا غیر مسلمات اغوا کر کے فروخت کر دیتے ہیں۔یا مسلمان کر کے خود نکاح کر لیتے ہیں۔اس مسئلہ میں کیا حکم ہے اغوا کرنے والا گنہگار ہےیا نہیں؟اور روپیہ جو اس نے فروخت کا لیا ہے  وہ حلال ہے یا نہیں اور غیر مسلمہ کو اغوا کر کے نکاح کرنا جائز ہے یانہیں اگر جائز ہے تو اس کی عدت کتنی ہے۔؟ الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! کسی آزاد انسان کا فروخت کرنا کسی طرح جائز نہیں ہے۔مسلم ہو یا غیر مسلم اغوا سے ہو یا رضا مندی سے اس کے دام بھی حرام ہیں۔اغوا کردہ عورت کو مسلمان کرنا بھی منع ہے۔اگر وہ اپنی رضا مندی سے مسلمان ہوتو جائز ہے۔ایک ماہ عدت گزار کر اس کا نکاح بھی جائز ہے۔ (فتاوی ثنائیہ۔جلد2 ص458)   فتاویٰ علمائے حدیث جلد 14 ص 109 محدث فتویٰ