کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 1704
چنے مکی کے برابر مقرر کرلینی جائز ہے یا نہیں؟ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ آج ایک شخص کو مکئی دے کر ہاڑی کو جو چنے مکئی کے برابر مقرر کرلینی جائز ہے یا نہیں؟ الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! برابر ہو یا کم و بیش ہو دونوں حالتوں میں جائز ہے۔کیونکہ جنس مختلف ہے۔ تعاقب مفتی صاحب اہل حدیث نے 30 ربیع الاول کے پرچہ اہل حدیث میں لکھا ہے۔کہ آج چیت کا مہینہ ہے۔ ایک شخص مکئی دے کر ہاڑی کے موقع پر گندم برابر ہو یا کم و بیش ہر دوصورتوں میں لے سکتا ہے۔ غالباً مفتی صاحب نے مسلم کے الفاظ فاذا اختلفت ہذہ الا صناف فبیعو ا کیف شئتم پر سارا دارومدار رکھا ہے۔اور فتوی دیا ہے۔جس میں انھوں نے مسامحت کی ہے۔ کیونکہ مختلف اجناس کی صورت میں جہاں کہیں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی ہے۔وہاں ید بیدا نقد بیع کرنے کی تاکید کی ہے۔اور ادھار کو ناجائز قرار1 دیا ہے۔ چنانچہ دیگر مقامات پر مختلف الفاظ نقل کر کے بد بید کے ساتھ مستفید فرمایا ہے۔مسند امام شافعی میں عبادہ بن صامت سے مرفوع حدیث ہے۔لا تبیعو الذہب بالذہب الحدیث کے آخر میں ہے۔کہ گندم کو جو سے اور نمک کو کھجور سے مختلف اجناس جس طرح چاہو بیچو مگر نقد کی صورت ہونی  چاہیئے۔ 1۔جو شخص بھوکا مر رہا ہو۔اور نقد لینے کی اس کو طاقت نہ ہو وہ کیا کرے اس کو متعاقب نے حل نہیں کیا(مولف( حتٰی کے بخاری شریف اصح المطابع ص290 جلد اول کے الفاظ بیعو الذہب با القضة والفضة با لذہب کیف شئتم کی شرح میں علامہ کرمانی۔اور علامہ عینی فرماتے ہیں۔ومتساریا ومتقا ضلا بشرط التقابض فی المجلسص صرف ایک مجلس میں نقد کی صورت میں جائز ہے۔چنانچہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ باب بیع الدینار با لدینار نسیا  میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہ الفاظ لاربی الاقی النسیة کی تشریح میں لائے ہیں۔ہذا عند نا فی الذہب بالورق والخطة با لشعیر متفاضل ولا باس بہ یدا بید ولا فیہ نسیة نقد تفاضل جائز ہے۔اور مذکورہ سوال کی صورت میں ادھار میں قطعا جائز نہیں۔اگرچہ اجناس میں اختلاف ہی کیوں نہ ہو۔علی ہذالقیاس مولوی عبد الرحمٰن صاحب  شرح  ترمذی جلد 2 ص239 باب ما جاء ان الخطة مثلا بمثل و کراہیة التفاضل فیہ عبادہ بن صامت کی حدیث کے لفظبیعوا الذہب بالفضة کیف شئتم یدا بید وبیعو االبر با لتمر کیف شئتم یدا بید کی شرح میں فرماتے ہیں۔حالاّ مقبوضاّ فی المجلس قبل افتراتہما عن الاخر اس وقت مجلس میں جدا ہونے سے پہلے ایک دوسرے سے کم و بیش چیز لے سکتا ہے۔ ادھار کی صورت میں جائز نہیں چنانچہ اسی پر امام ترمذی نے کافہ اہل علم کا عمل زکر کیا ہے اور فرمایا ہے۔فا اذا ختلف الاجناس فلا باس ان یباع متفاضلا ّ اذا کان یدا بید مکی کو جو سے نقد بیچنے کی صورت میں کم وبیش جائز ہے۔اور ادھار جیسا کہ مفتی صاحب نے فرمایا ناجائز ہے۔ان ارید الاالا صلاح (راقم محمد دائود ارشد عثمان والا ضلع لاہور    15 ربیع الاخر سن1364ھ (فتاوی ثنائیہ جلد 2 ص 454۔455) اضافہ تشریح مفید۔از  حضرت مولانا عبد السلام مولوی فاضل بستوی۔ فتاویٰ علمائے حدیث جلد 14 ص 106 محدث فتویٰ