کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 1617
دار الحرب میں سود کا حکم السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ دارالحرب میں حربی سے سود لینے یا دینے کا کیا حکم ہے؟ نصب الرایۃ باب الربیٰ میں مکحول کی مرسل روایت ’’لا ربا بین المسلم و الحربی فی دارالحرب‘‘ کا کیا مطلب ہے؟ نیز دورحاضر میں دارالحرب کن ممالک کو کہا جائے گا؟ الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! سود لینا اور سود دینا کہیں بھی جائز نہیں ہے،خواہ وہ دار الحرب ہو یا دار الاسلام ہو۔ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ’’ لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاہدیہ ‘‘ (صحیح البخاری کتاب البیوع باب آکل الربا وشاہدہ وکاتبہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے ،سود کھلانے والے،سود لکھنے والے اور سودی معاملے کی گواہی دینے والے تمام افراد پر لعنت فرمائی۔ یہ حدیث عام ہے جو ہر حال میں سود کی حرمت پر دلالت کر رہی ہے۔ باقی رہی مکحولٌ کی مرسل روایت ’’لا ربا بین المسلم و الحربی فی دارالحرب‘‘ تو اس کا بھی غالباً یہی مفہوم ہے کہ دار الحرب میں بھی کوئی مسلمان کسی حربی سے سود نہیں لے سکتا۔اور اکثر اہل علم اسی کے مطابق فتویٰ دیتےہیں۔ نیز دورحاضر میں دارالحرب کن ممالک کو کہا جائے گا؟ اس سوال کا جواب بالتعیین دینا تو تفصیل کا متقاضی ہے ،اس بارے میں ہم یہی کہیں گے کہ دار الحرب سے مراد ہر وہ ملک ہے جہاں اسلامی قانون پرعمل نہ ہوسکے۔ یا جہاں مسلمانوں کے لیے امن سے رہنا ممکن نہ ہو۔ بعض علما کا خیال ہے کہ اگر کسی ملک میں ایک اسلامی حکم بھی نافذ ہو تو وہ دارالحرب نہیں ہے۔ ہذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب فتویٰ کمیٹی محدث فتویٰ