کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 1590
(188) بینکوں کے ملازمین کی تنخواہ حلال ہے یا حرام؟ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ کیابینکوں خصوصاالبنک العربی کےملازمین کی تنخواہ حلال ہےیاحرام؟میں نےسناہےکہ بینکوں کی تنخواہ حرام ہےکیونکہ بینک اپنےبعض معاملات میں سودی کاروبارکرتےہیں،میں ایک بینک میں ملازمت کرنےکاارادہ رکھتاہوں،اس لئےامیدہےکہ آپ مستفیدفرمائیں گے  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! جوبینک سودی کاروبارکرتےہوں،ان میں ملازمت کرناجائزنہیں ہےکیونکہ یہ بھی گناہ اورظلم کےکاموں میں تعاون ہےاوراللہ تعالیٰ نےفرمایاہےکہ: ﴿وَتَعاوَنوا عَلَی البِرِّ‌ وَالتَّقویٰ وَلا تَعاوَنوا عَلَی الإِثمِ وَالعُدو‌ٰنِ ...﴿٢﴾... سورة المائدة ‘‘نیکی اورپرہیزگاری کےکاموں میں ایک دوسرےکی مددکیاکرواورگناہ اورزیادتی کےکاموں میں ایک دوسرےکی مددمت کرو۔’’ اورصحیح حدیث میں ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےسودکھانے،کھلانے،اس کےلکھنےوالےاوردونوں گواہوں پرلعنت فرمائی اورفرمایاکہ وہ سب(گناہ میں)برابرہیں(صحیح مسلم) ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب مقالات و فتاویٰ ص316