کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 1575
(119) رشوت کا حکم السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ رشوت کی تعریف اورتشریح فرماکریہ وضاحت کریں کہ کیا مجبوراآدمی حصول کے لیے رشوت دےسکتا ہے؟  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! آپ کاخط ملاگزارش ہے کہ رشوت کی معنی یہ  ہے کہ: ‘‘کسی شخص کو کچھ مال اس غرض سے دینا کہ وہ شخص امرباطل وناحق پر اس کی  اعانت کرےاوراس غرض سےجومال دے وہ راشی ہے اورجومال لے وہ مرتشی ہے اورجوشخص دونوں کے درمیان اس لین دین کی بات چیت کرائے وہ رائش ہے اورحدیث میں ان تینوں شخصوں پر خداکی لعنت آئی ہے اورامرحق کےحاصل کرنے کے لیے یا ظلم ظالم کے دفع کرنے کے  لیے مال دینا رشوت نہیں ہے۔’’(فتاوی نذیریہ:ص٣٠/٢طبع قدیم) لغت حدیث کی مشہورکتاب مجمع بحارالانوارمیں بھی اس طرح لکھا ہے ،چنانچہ اس کتاب کی عبارت جلد2صفحہ 329)طبع جدیدسےمع ترجمہ ذیل میں نقل کی جاتی ہے۔ ((الرشوة وفیہ لعن اللہ الراشی’أی من یعطیہ الذی یعینہ علی الباطل والمرتشی أی آخذہ والرائش’’أی الساعی بینہماومن یعطی توصلا إلی أخذحق اوردافع ظلم فغیرداخل فیہ وروی أن ابن مسعود رضی اللہ عنہ أخذبأرض الحبشة بشیء فاعطی دینارین حتی خلی سبیلہ’’وروی عن جماعة من ائمة التابعین قالوا:لابأس أن یدافع عن نفسہ ومالہ إذا خاف الظلم.)) ‘‘رشوت کے معنی ہیں باطل مال اورحدیث میں راشی وہ شخص ہے جو کسی دوسرےشخص کو کچھ مال اس لیے دیتا ہے کہ وہ اس کی باطل وناحق پرمددکرے،اورمرتشی وہ شخص ہے جواس طرح کاناحق مال باطل پراعانت کے لیے لیتا ہے ،اوررائش یہ وہ شخص ہے جو  ان دونوں شخصوں کے درمیان لین دین کی بات کرتا ہے ،ان تینوں پر اللہ کی لعنت آئی ہے ،جوآدمی کچھ مال دیتا ہے اس غرض سے کہ اس  طرح وہ اپنا حق حاصل کرسکے یا اپنے سے ظلم کو دفع کرسکے اورحضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حبشہ کی زمین میں کسی معاملہ میں  ناحق پکڑاگیاتواس نے دودیناردیئے تب ان کو چھوڑاگیااورتابعین وائمہ کی ایک جماعت سے یہ روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:اگرکوئی کچھ مال وغیرہ دے کراپنی جان ومال سے ظلم دفع کرے جب انہیں خوف ہو کہ اگروہ کچھ نہ دے گاتواس کی  جان یامال کو نقصان پہنچے گاتواس میں کوئی حرج نہیں ہے۔’’ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی جس روایت کی طرف مجمع بحارالانوارکی عبارت میں اشارہ ہےوہ ہم ذیل میں امام بیہقی کتاب السنن الکبری سےنقل کرتے ہیں۔ ((باب:من اعطاہالیدفع بہاعن نفسہ اومالہ ظلمااویاخدبہاحقا.)) ‘‘یعنی یہ باب اس باب کے بیان میں ہے کہ اگریہ رشوت کوئی دوسرے شخص کودیتا ہے اس غرض کے لیے کہ اس طرح وہ اپنی جان ومال سےظلم دفع کرے یااپنا حق حاصل کریں تواس کا کیا حکم ہے ؟’’ پھراس باب کے تحت یہ روایتیں لائیں ہیں: ((أخبرناابوالحسین الفضل القطان ببغدادأنباعبداللہ بن جعفرثنایعقوب بن سفیان ثنازیدبن المبارک الصنعانی وکان من الخیارقال ثناوکیع ثناابوالعمیس(ہوعتبة بن عبداللہ بن عتبة بن عبداللہ بن مسعود)عن القاسم بن عبدالرحمن عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ انہ لما أتی ارض الحبشة أخذبشیء فتعلق لہ فاعطی دینارین حتی خلی سبیلہ.)) بیہقی’کتاب آداب القاقی’جلد١٠’صفحہ١٣٩. اس  روایت کی سند کے متعلق بعدمیں کچھ عرض کریں گے یہاں متن کا ترجمہ لکھا جاتا ہے ۔ ‘‘حضرت ا بن مسعود رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ وہ جب حبشہ کی زمین میں آیاتوکسی بات میں پکڑاگیااوروہ ان سے چمٹ گئے(یعنی وہ آپ کوچھوڑ نہیں رہےتھے۔)حتی کہ انہوں نے دودیناردیئےتب ان کی خلاصی ہوئی۔’’ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں ،لیکن قاسم بن عبدالرحمن جوا بن مسعود رضی اللہ عنہ سےروایت کررہے ہیں وہ اگرچہ ثقہ ہے(ا بن مسعود رضی اللہ عنہ کاپوتا بھی ہے)لیکن  انہوں نے اپنے داداا بن مسعود رضی اللہ عنہ سےکچھ نہیں سنالہذایہ قرین قیاس ہے کہ انہوں نے یہ روایت اپنے والدعبدالرحمن سےسنی ہواورانہوں نے اپنے والدا بن مسعود رضی اللہ عنہ سےاوریہ چونکہ ان کے خاندان اورداداکی بات ہے لہذایہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ روایت انہوں(قاسم)نے ضروراپنےوالدعبدالرحمن سےسنی ہوگی۔(واللہ اعلم) پھرامام بیہقی وسری روایت وہب بن منبہ تابعی سےذکرکرتے ہیں: ((اخبرناابن الفضل انباعبداللہ بن جعفرثنایعقوب بن سفیان ثنازید(ہوابن المبارک)ثناعبدالملک بن عبدالرحمن عن محمدبن سعیدہو(ابن رمانة)عن ابیہ(ہوسعیدبن رمانة)عن وہب بن منبہ قال:لیست الرشوة التی یاثم فیہاصاحبہابان یرشع فیدفع عن مالہ ودمہ’انماالرشوة التی یاثم فیہاأن ترشوالتعطی مالیس لک.)) السنن الکبری:ج١٠’ص ١٣٩. ‘‘یعنی وہب بن منبہ(جوایک مشہورتابعی ہے)سےروایت ہے کہ انہوں نےفرمایاکہ:وہ رشوت جواس کا دینے والااس کی وجہ سےگنہگارہوتا ہے وہ یہ نہیں’’ ہےجوآدمی اپنے خون ومال کے مدافعت میں دیتا ہے ہاں جس رشوت دینےسےآدمی آثم وگنہگارہوگاوہ یہ ہے کہ تورشوت اسےاس لیے  دے کہ تجھے وہ چیزوغیرہ مل جائے جوتیری نہیں یا اس پر تیراحق نہ ہو۔’’ اس روایت کی سندکے دوراوی محمدبن سعیدبن رمانہ اوراس ےکےوالدسعیدبن رمانہ کاذکرفن رجال کی کتاب تہذیب التہذیب میں ملتا توہے،لیکن ان کے متعلق جرحا وتعدیلاکچھ نہیں لکھااورنہ ہی کسی دوسری کتاب سے کچھ مزیدپتہ چل سکا۔ بہرحال فتاوی نذیریہ کی عبارت سےآپ نے اندازہ لگالیاہوگاکہ ان کے ہاں جومال اپنے حق کے حاصل کرنے یاظلم کے دفع کرنے کے لیے دیا جاتا ہے وہ رشوت ہی نہیں لیکن امام بیہقی کی رائے یہ ہے کہ یہ بھی رشوت ہے اس لیے باب میں یہ لکھا ‘‘من اعطاہا’’اورہاکی ضمیررشوت کی طرف لوٹتی ہے جواس باب سے پہلے باب میں گذرچکی ہے لیکن اس طرح کی رشوت دینے والاگنہگارنہ ہوگااس طرح وہب بن منبہ کی عبارت بھی ظاہرہےکہ یہ بھی رشوت ہے لیکن اس کا دینے والاگنہگارنہ ہوگا۔ راقم الحروف کی تحقیق بھی یہ ہے یعنی آدمی اپنے حق حاصل کرنے کے لیے یا اپنی جان ومال سےظلم کی مدافعت کے لیے کچھ دیتا ہے تووہ رشوت توہےلیکن اس کے دینے والاآثم(گنہگار)نہ ہوگاکیونکہ وہ مجبورہے،البتہ لینے والاضرورگنہگارہوگاکیونکہ اس کے پاس اس مال کے لینے کا کوئی جوازنہیں ہے۔(واللہ اعلم) راقم الحروف کو جوکتاب وسنت کی روشنی میں جوکچھ سمجھ  میں آیا وہ ذکرکردیاہے اگرصحیح ہے تومن عنداللہ سےورنہ یہ میری غلطی ہے۔ قرآن کریم سورۃ الانعام میں ہے: ﴿وَمَا لَکُمْ أَلَّا تَأْکُلُوا۟ مِمَّا ذُکِرَ‌ ٱسْمُ ٱللَّہِ عَلَیْہِ وَقَدْ فَصَّلَ لَکُم مَّا حَرَّ‌مَ عَلَیْکُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِ‌رْ‌تُمْ إِلَیْہِ وَإِنَّ کَثِیرً‌ۭا لَّیُضِلُّونَ بِأَہْوَآئِہِم بِغَیْرِ‌ عِلْمٍ ۗ إِنَّ رَ‌بَّکَ ہُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُعْتَدِینَ ﴾ (الانعام:۱۱۹)    ‘‘آخرکیا وجہ ہےکہ تم وہ چیز نہ کھاو جس پر اللہ کانام لیاگیا ہوحالانکہ جن چیزوں کا استعمال حالت اضطراب کے سوادوسری تمام حالتوں میں اللہ نے حرام کردیا ہے ان کی تفصیل وہ تمہیں بتاچکاہے۔’’ اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ جوچیزیں کتاب وسنت میں تفصیل کے ساتھ بیان ہوچکی ہیں تووہ اشیاء یا امورحرام ہیں لیکن اضطراری اورمجبوری کی حالت میں مستثنی ہیں یعنی جوچیزیں ناجائز وحرام ہوں لیکن اگراضطراری یامجبوری یا استکراہ کی حالت ہوتوجائز ہوجاتی ہیں لیکن اس کا جواب یہ مطلب نہیں کہ اب اس چیز کو بے تحاشاحلال سمجھ کرخوب کام میں لایاجائے بلکہ جتنی مقدارسےہوگیا ہے توپھر مزید استعمال نہ کرے،اب رشوت جو ایک مضطرومجبوری آدی اپنے حق کے حصول کے لیے دیتا ہے تووہ اس دینے پر مجبورہے کیونکہ اگرنہیں دیتاتواس کاحق غضب ہوجاتا ہے لہذا ایسی صورت میں دینے والاگنہگارنہ ہوگا ہاں لینے والاآثم (گنہگار)ہوگا۔ اب ایک حدیث ملاحظہ کیجئے: ((عن ابن ابی ذرالغفاری رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اللہ تجاوزلی عن أمتی الخطاء والنسیان ومااستکرہواعلیہ.)) حدیث حسن رواہ ابن ماجة’کتاب الطلاق ’باب طلاق المکروالناسی’رقم الحدیث: ٢٠٤٣. ‘‘حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالی نے میری امت کی تین چیزوں سےدرگزرفرمایاہے۔(1)غلطی سے کوئی کام ہوجائے۔(2)بھول کرکوئی کام کیا ہو۔(3)جس پر وہ مجبورکردیا گیا ہو۔’’ اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص کسی مجبوری یا استکراہ کی وجہ سے کسی کام کےکرنے پر مجبورہوگیا ہے تواللہ تعالی اس سے درگذرفرماتاہے۔ بہرحال اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ اگرمجبورہوکراپنے حق کے حصول کے لیے یااپنے اوپر ظلم کے دفعیہ کے لیے رشوت دیتا ہے تووہ اس سے گنہگارنہیں ہوگا۔ یہاں یہ بات اچھی طرح سوچ لینی چاہئے کہ آیافی نفس الامراورواقعتادینے پر مجبورہے؟اوراس کے علاوہ اس کے پاس اورکوئی چارہ نہیں ہے۔اگراس کےسوااورکوئی جائزصورت ہے توپھررشوت ہرگزنہیں دینی چاہئے۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب فتاویٰ راشدیہ صفحہ نمبر 463