کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 1540
(355) کیا طوطی حلال ہے السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرح متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ طوطی حلال پرندہ ہے یا حرام ؟ بینوا توجرو۔ ( سائل الحافظ محمد خاں مکان نمبر 26، گلی نمبر 2عبداللہ کالونی سرگودھا شہر ) الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! طوطی یا دوسرے پرندوں کے حلال و حرام ہونے کے بارے میں یہ ضابطہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ وہی پرندہ حرام ہوگا جس کے بارے میں کتاب وسنت میں نص موجود ہو ، یعنی اس کا نام لے کر اسے حرام کہا گیا ہو ، مثلاً : کوا، گدھ وغیرہ یا وہ پرندے جو کل ذی مخلب من الطیر کے عام ضابطہ میں آتا ہو ۔ یعنی ہر وہ پرندہ حرام ہو گا جو پنجے کے ساتھ شکار کرتا ہو یا پھر وہ  پرندہ حرام ہو گا جس کو شرعاً مار دینے کاحکم موجود ہے ۔ اس ضابطہ کو ذہن میں رکھنے کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ طوطی کے بارے میں شریعت میں ایسا حکم موجودنہیں جس میں اس کے نصاً حرام یا اس کے مار دینے کا ذکر موجود ہو ، اور یہ بات محقق اور طے شدہ ہے کہ طوطی ذی مخلب بھی نہیں ، یعنی پنجے سے شکار نہیں کرتا ۔ ہاں پنجے میں دبا کر کھاتا ضرور ہے ۔ بہر حال حیوة الحیوان للعلامہ الدمیری ۔ میں طوطی کے بارے میں اختلاف مذکور ہے ۔ بعض کے نزدیک حلال ہے اور بعض کے نزدیک حرام ہے ۔ مگر حرام والا قول چنداں قوی نہیں ۔ حلال والا قول قوی اور صحیح ہے ۔ مزید تفصیل ابن قدامہ المغنی اور دوسری کتب متعلقہ میں ملاحظہ فرمائیں ، احقر کے نزدیک طوطی حرام نہیں ۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب فتاویٰ محمدیہ ج1ص865