کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 1537
(351) بولی والی کمیٹی کی آمدنی حرام ہے السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کوئی ایک شخص خطبہ و امامت کے فرائض سرانجام دیتا ہے اور تجارت بھی کرتا ہے ۔ اس بازار میں دوکانداروں نے کمیٹی ڈالی ہے ۔ جس کو بولی والی کمیٹی کہتے ہیں ۔ یعنی ہر مہینہ اس کمیٹی کی رقم کی بولی ہوتی ہے ۔ اور اس منافع کو ممبران کمیٹی پر تقسیم کر دیا جاتاہے ۔ اس خزانچی کے پاس امام صاحب مذکورہ بھی کمیٹی جمع کرواتے ہیں لیکن وہ اس منافع کو غلط اور ناجائز سمجھتے ہیں اور منافع نہیں لیتے ۔ جتنی رقم جمع کرواتے ہیں پوری پوری رقم خزانچی سے وصول کرتے  ہیں ۔ اس شکل میں اس امام کے پیچھے جمعہ نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں ۔ بینوا توجروا (سائل : رانا مشتاق احمد چھانگا مانگا ضلع قصور) الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! بشرط صحت سوال و بشرط صحت واقعہ بولی والی کمیٹی مذکورہ صورت تو واضح طور پر سود کے حکم میں ہےجو کہ سراسر حرام اور ناجائز اور اکل بالباطل کی ایک صورت ہے ۔ جس سے اجتناب اور گزیر لازم ہے ۔ البتہ دوسری صورت یعنی جب کہ اس خزانچی کے پاس اپنی رقم بطور امانت برائے بچت جمع کروائی جائے اور بولی کی صورت میں حاصل ہونے والی رقم سے حصہ نہ وصل کیا جائے ۔ بلکہ اس کو حرام سمجھا جائے اور صرف اپنی باری آنے پر اپنی ہی جمع شدہ رقم وصول کی جائے تو یہ صورت جائز ہے ۔ جیسا کہ سراسر سودی بینک کے کرنٹ کھاتہ میں حفاظت کی نیت سے پیسہ جمع کرانا جائز ہے تو ایسے یہ دوسری صورت بھی جائز معلوم ہوتی ہے ، اور ایسے امام کی اقتداء میں جمعہ ،نماز پڑھنا بلاشبہ جائز اور درست ہے کیونکہ اس نے تو اپنی جائز بچت کی غرض سے اس کمیٹی میں شرکت کی ہے ۔ نیز بولی کی صورت میں حاصل ہونے والی رقم کو منافع کہنا بھی صحیح نہیں بلکہ وہ سراسر سود کی صورت ہے ۔  ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب فتاویٰ محمدیہ ج1ص862