کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 1410
(523) تمباکو نوشی اور تمباکو کی تجارت السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ تمباکو نوشی کے بارے میں کیا حکم ہے؟  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! تمباکو نوشی حرام ہے کیونکہ یہ خبیث بھی ہے اور بہت سے نقصانات پر بھی مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے کھانے پینے کی ان چیزوں کو جائز قرار دیا ہے جو پاک ہیں اور جو خبیث اور ناپاک ہیں انہیں حرام قرار دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿یَسـَٔلونَکَ ماذا أُحِلَّ لَہُم ۖ قُل أُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبـٰتُ...﴿٤﴾... سورة المائدة ’’اے پیغمبر! آپ سے پوچھتے ہیں کہ کون کون سی چیزیں ان کیلئے حلال ہیں؟ (ان سے) کہہ دیجئے کہ سب پاکیزہ چیزیں تمہارے لئے حلال ہیں‘‘۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت ﷺ کی شان میں سورۃ الاعراف میں فرمایا ہے: ﴿یَأمُرُ‌ہُم بِالمَعر‌وفِ وَیَنہیٰہُم عَنِ المُنکَرِ‌ وَیُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبـٰتِ وَیُحَرِّ‌مُ عَلَیہِمُ الخَبـٰئِثَ...﴿١٥٧﴾... سورة الاعراف ’’وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اوربرے کام سے روکتے ہیں اور پاک چیزوں کو ان کیلئے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں‘‘۔ تمباکو نوشی کی کوئی قسم بھی طیبات میں سے نہیں بلکہ اس کی تمام انواع و اقسام خبیث ہیں۔ اسی طرح تمام نشہ آور اشیاء بھی خبیث اور ناپاک ہیں۔ شراب کی طرح تمباکو پینا‘ اس کی خریدوفروخت کرنا اور اس کی کسی طرح کی بھی تجارت کرنا جائز نہیں ہے۔ لہٰذا جو شخص تمباکو نوشی کرتا یا اس کی تجارت کرتا ہو تو اسے چاہئے کہ فوراً اللہ تعالیٰ کے آگے توبہ کرے‘ ماضی میں جو کچھ ہوا اس پر ندامت کا اظہار کرے اور عزم صمیم کرے کہ آئندہ یہ کام نہیں کرے گا۔ جو شخص سچی توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرما لیتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَتوبوا إِلَی اللَّہِ جَمیعًا أَیُّہَ المُؤمِنونَ لَعَلَّکُم تُفلِحونَ ﴿٣١﴾... سو رة النور ’’اور مومنو تم سب اللہ کے آگے توبہ کرو تاکہ فلاح پاؤ‘‘۔ نیز فرمایا: ﴿وَإِنّی لَغَفّارٌ‌ لِمَن تابَ وَءامَنَ وَعَمِلَ صـٰلِحًا ثُمَّ اہتَدیٰ ﴿٨٢﴾... سورة طہ ’’اور جو شخص توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے پھر سیدھے راستے پر جلے تو اس کو میں ضرور بخش دینے والاہوں‘‘۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب فتاویٰ اسلامیہ ج3ص487 محدث فتویٰ