کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 1387
(493) ڈبوں میں بند گوشت کا استعمال السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ بیرونی ملکوں سے آنے والے ان ڈبوں میں بند گوشت کے استعمال کے بارے میں کیا حکم ہے‘ جن پر لکھا ہوتا ہے کہ یہ اسلامی طریقے کے مطابق ذبح کیا ہوا ہے؟  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! اجنبی ملکوں سے درآمد شدہ گوشت کو کھانا مکروہ ہے کیونکہ اس کا حلال ہونا مشکوک ہوتا ہے خواہ ان ملکوں میں مسلمان یا کتابی ہی کیوں نہ رہتے ہوں‘ اس لیے کہ اکثر و بیشتر صورتوں میں ان کا ذبح کرنے کا طریقہ شرعی نہیں ہوتا۔ کبھی تو یہ جانوروں کو اس طرح ذبح کرتے ہیں کہ ان کا سر کاٹ کر ان کو گردن کے اوپر کے حصہ کی طرف سے ذبح کرتے ہیں اور کبھی انہیں بڑی بڑی مشینوں میں داخل کر دیتے ہیں اور یہ ذبح کرنے سے قبل ہی مر جاتے ہیں‘ پھر بعد میں ان کے سر کاٹ دیئے جاتے ہیں تاکہ ان کا خون ضائع نہ ہو اور گوشت وزنی ہو جائے اور کبھی انہیں زبردست کھولتے ہوئے پانی میں ڈبو کر مار دیتے ہیں تاکہ ان کے پروں اور بالوں وغیرہ کو یہ آسانی سے نوچ سکیں اور پھر اکثر و بیشتر صورتوں میں ذبح کرنے والے لوگ بھی مسلمان یا تورات و انجیل کو قائم کرنے والے حقیقی کتابی نہیں ہوتے لہٰذا وہ مرتد شمار ہوں گے اور پھر یہ لوگ ذبح کرتے وقت بسم اللہ بھی نہیں پڑھتے حالانکہ ذبیحہ کے حلال ہونے کیلئے بسم اللہ پڑھنا شرط ہے۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب فتاویٰ اسلامیہ ج3ص455