کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 1380
(486) غیر اللہ سے استغاثہ کرنے والے کا ذبیحہ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ میں ایک صومالی طالبعلم ہوں اور چین میں تعلیم حاصل کرتا ہوں‘ مجھے کھانے کے بارے میں عموماً اور گوشت کے بارے میں خصوصاً بہت سی مشکلات کا سامنا ہے جو کہ حسب ذیل ہیں: (۱) چین آنے سے پہلے میں نے سنا تھا کہ جن حیوانات کو ملحدین نے ذبح یا زیادہ صحیح الفاظ مین قتل کیا ہو‘ مسلمان کیلئے انہیں کھانا جائز نہیں ہے۔ ہماری یونیورسٹی میں مسلمانوں کا ایک چھوٹا سا ہوٹل ہے جس میں گوشت بھی ہوتا ہے لیکن مجھے یقین نہیں کہ اسے اسلامی طریقے سے ذبح کیا گیا ہوتا ہے‘ مجھے تو اس کے بارے میں شک ہوتا ہے جبکہ میرے ساتھی طلبہ کو اس کے بارے میں کوئی شک نہیں لہٰذا وہ کھا لیتے ہیں جبکہ میں نہیں کھاتا۔ کیا میرے یہ ساتھی حق پر ہیں یا وہ حرام کھاتے ہیں؟ طلبہ کی ایک جماعت یہ سمجھتی ہے کہ غیر اللہ سے استغاثہ کرنے والوں اور انہیں ایسے امور کیلئے جن پر اللہ کے سوا اور کسی کو قدرت نہیں ‘ پکارنے والوں کا ذبیحہ حلال ہے بشرطیکہ وہ اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لے لیں ان کا استدلال ﴿فکلوا مما ذکر اسم اللہ علیہ﴾ الانعام:۶/۸۱۱) کے عموم سے ہے نیز انہوں نے آیت کریمہ ﴿ومالکم الا تاکلوا مما ذکر اسم اللہ علیہ﴾ (الانعام‘ ۶/۹۱۱)سے بھی استدلال کیا ہے۔ ان کی رائے یہ ہے کہ جو ان کے ذبیحہ کو حرام قرار دے وہ ان حدود سے تجاوز کرنے والوں میں سے ہے جو بغیر علم کے اپنی خواہشات سے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو ہمارے لیے حرام قرار دیا ہے اسے تفصیل سے بیان فرما دیا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ﴿ حرمت علیکم المینة والدم ولحم الخنزیر وما اہل لغیر اللہ بہ﴾ (المائدہ‘ ۵/۳) اور ارشادباری تعالیٰ ﴿ انما حرم علیکم المینة والدم ولحم الخنزیر وما اہل بہ لغیراللہ﴾ (البقرہ‘ ۲/۳۷۱) میں ہے نیز وہ دیگر آیات جن میں ان ذبائح کی تفصیل بیان کی گئی ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے اور ان آیات میں سے کسی میں بھی اللہ تعالیٰ نے اس چیز کی حرمت کو بیان نہیں کیا جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو‘ خواہ ذبح کرنے والا بت پرست ہو یا مجوسی۔ یہ لوگ پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ شیخ محمد بن عبدالوہاب ان لوگوں کے ذبیحوں کو کھا لیتے تھے جو زید بن خطاب کو پکارتے تھے جبکہ وہ ان پر اللہ کا نام لے لیتے تھے۔ کیا ان کی یہ بات صحیح ہے؟ اگر مذکورہ آیات سے ان کا استدلال غلط ہے تو اس کا جواب کیا ہے؟ اس مسئلہ میں حق کیا ہے؟ براہ کرم دلیل کے ساتھ جواب دیں۔  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! ذبح کرنے والوں کے حال کے مختلف ہونے کی وجہ سے حلت و حرمت کے اعتبار سے ذبیحوں کا حکم مکتلف ہوگا۔ اگر ذبح کرنے والا مسلمان ہو اور اس کے بارے میں ایسی کسی بات کا علم نہ ہو جو اسلام کے منافی ہو اور اس نے ذبیحہ پر اللہ کانام لے لیا ہو یا معلوم نہ ہو کہ اس نے اللہ کانام لیا ہے یا نہیں تو اس کا ذبیحہ حلال ہے اور اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کیونکہ حسب ذیل ارشاد باری تعالیٰ کے عموم کا یہی تقاضا ہے: ﴿فَکُلوا مِمّا ذُکِرَ‌ اسمُ اللَّہِ عَلَیہِ إِن کُنتُم بِـٔایـٰتِہِ مُؤمِنینَ ﴿١١٨﴾وَما لَکُم أَلّا تَأکُلوا مِمّا ذُکِرَ‌ اسمُ اللَّہِ عَلَیہِ وَقَد فَصَّلَ لَکُم ما حَرَّ‌مَ عَلَیکُم إِلّا مَا اضطُرِ‌ر‌تُم إِلَیہِ ۗ وَإِنَّ کَثیرً‌ا لَیُضِلّونَ بِأَہوائِہِم بِغَیرِ‌ عِلمٍ ۗ إِنَّ رَ‌بَّکَ ہُوَ أَعلَمُ بِالمُعتَدینَ ﴿١١٩﴾... سورةالانعام ’’تو جس چیز پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیا جائے اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو تو اسے ھکا لیا کرو اور سبب کیا ہے کہ جس چیز پر اللہ کا نام لیا جائے تم اسے نہ کھائو حالانکہ جو چیزیں اس نے تمہارے لیے حرام ٹھہرا دی ہیں‘ وہ ایک ایک کر کے بیان کر دی ہیں (بے شک ان کو نہیں کھانا چاہئے) مگر اس صورت میں کہ (ان کے کھانے کیلئے) لاچار ہو جائو‘‘۔ اگر ذبح کرنے والا کتابی یعنی یہودی یا عیسائی ہے اور وہ ذبیحہ پر اللہ کا نام لے تو وہ بھی بلاجماع حلال ہے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَطَعامُ الَّذینَ أوتُوا الکِتـٰبَ حِلٌّ لَکُم...﴿٥﴾... سورةالمائدة ’’اور اہل کتاب کا کھانا بھی تمہارے لیے حلال ہے‘‘۔ اور اگر وہ اللہ کا نام لے نہ کسی غیر اللہ کا تو اس کے ذبیحہ کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض نے اسے اس مذکورہ آیت سے استدلال کے پیش نظر حلال قرار دیا ہے اور بعض نے ذبیحہ پر وجوب تسمیہ کے دلائل کے عموم سے استدلال کے پیش نظر اسے حرام قرار دیا ہے۔ نیز درج ذیل آیت کریمہ سے بھی ان کا استدلال ہے جس میں یہ ہے کہ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے نہ کھایا جائے۔ ﴿وَلا تَأکُلوا مِمّا لَم یُذکَرِ‌ اسمُ اللَّہِ عَلَیہِ...﴿١٢١﴾... سورةالانعام ’’اور جس چیز پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھائو‘‘۔ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے اگر کتابی ذبیحہ پر غیر اللہ کا نام لے‘ مثلاً کہے میں اسے عزیر یا مسیح یا صلیب کے نام سے ذبح کرتا ہوں تو پھر یہ﴿وما اہل لغیراللہ بہ﴾ المائدہ‘ ۵/۳۱) کے عموم کے پیش نظر کھانا حلال نہیں ہوگا کیونکہ اس آیت نے﴿وطعام الذین اوتو الکتاب جل لکم ﴾ (المائدہ‘ ۵/۵) کے عموم کی تخصیص کر دی ہے۔ ذبح کرنے والا اگر مجوسی ہو تو اس کا ذبیحہ نہیں کھایا جائے گا خواہ وہ اس پر اللہ کا نام لے یا نہ لے ہمارے علم کے مطابق اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں بجز اس کے کہ ابو ثورؓ سے منقول ہے کہ مجوسی کا شکار اور ذبیحہ جائز ہے کیونکہ نبی اکرم۔ سے یہ روایت کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا: «سنوا بہم سنة أہل الکتاب»( لمؤطا) ’’ان سے بھی اہل کتاب کا سا معاملہ کرو‘‘۔ اور پھر اس لیے بھی کہ ان سے بھی اہل کتاب کی طرح جزیہ لے کر انہیں اپنے دین پر برقرار رہنے کی اجازت دی جاتی ہے لہٰذا ان کا شکار اور ذبیحہ جائز ہے لیکن علماء نے ابو ثور رحمہ اللہ کی اس بات کو تسلیم نہیں کیا اور اسے ائمہ سلف کے اجماع کیخلاف قرار دیا ہے۔ ابن قدامہ رحمہ اللہ ’’المغنی‘‘ میں فرماتے ہیں کہ ابراہیم حربیؒ نے کہا ہے کہ ابو ثور رحمہ اللہ نے اجماع کی خلاف ورزی کی ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو مجوسیوں کے ذبیحوں میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے حالانکہ یہ کس قدر تعجب انگیز ہے؟ امام احمد رحمہ اللہ کا اشارہ ابو ثور رحمہ اللہ ہی کی طرف ہے۔ جن لوگوں سے مجوسیوں کے ذبیحہ کی کراہت مروی ہے‘ ان میں ابن مسعود‘ ابن عباس‘ علی‘ جابر‘ ابو بردہ رضی اللہ عنہ‘ سعید بن مسیب‘ عکرمہ‘ حسن بن محمد‘ عطائ‘ مجاہد‘ عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سعید بن جبیر‘ مرد ہمدانی‘ زہری‘ مالک‘ ثوری‘ شافعیؒ اور اصحاب رائے شامل ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ کسی نے اس کیخلاف کہا ہو الایہ کہ وہ بدعتی ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو یہ فرمایا ہے: ﴿وَطَعامُ الَّذینَ أوتُوا الکِتـٰبَ حِلٌّ لَکُم... ﴿٥﴾... سورة المائدة ’’اور اہل کتاب کا کھانا بھی تمہارے لیے حلال ہے‘‘۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ دیگر کفار کا کھانا حرام ہے کیونکہ ان کے پاس کتاب نہیں ہے لہٰذا بت پرستوں کی طرح ان کے ذبیحے حلال نہیں ہیں… پھر فرمایا ہے کہ ان سے جزیہ اس لئے لیا جاتا ہے کیونکہ کتاب کا شبہ ان کے خون کی حرمت کا تقاضا کرتا ہے اور جب خون کی حرمت کے سلسلہ میں اس شبہ کو غلبہ دے دیا گیا تو واجب تھا کہ ذبیحوں اور عورتوں کی حرمت کے سلسلہ میں عدم کتاب کے شبہ کو غلبہ دے دیا جاتا تاکہ دونوں جگہوں پر احتیاط کے پیش نظر حرمت کے پہلو کو غلبہ دے دیا جائے اور پھر اس بات پر اجماع بھی ہے چنانچہ یہی قول ان اہل علم کا بھی ہے جن کے اسماء گرامی ہم نے شمار کرائے ہیں اور ان کے زمانہ میں یا بعد میں کسی نے ان کی مخالفت بھی نہیں کی الایہ کہ سعید رحمہ اللہ سے جو ایک روایت ہے ان سے اس کیخلاف بھی مروی ہے۔ (المغنی) اگر ذبح کرنے والا اہل کتاب اور مجوسیوں کے سوا دیگر مشرکوں‘ بت پرستوں یا ان میں سے ہو جو ان کے حکم میں ہوں تو پھر مسلمانوں کا اجماع ہے کہ اس کا ذبیحہ حرام ہے خواہ یہ اللہ کانام لیں یا نہ لیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ﴿وطعام الذین اوتوالکتاب حل لکم﴾(المائدہ ۵/۵) سے معلوم ہوتا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ ان کے علاوہ دیگر کفار کے ذبیحے حرام ہیں ورنہ تخصیص کے ساتھ ان کے ذکر کا کوئی فائدہ نہیں۔ اسی طرح جو شخص اسلام کی طرف منسوب تو ہو مگر ایسے امور میں غیر اللہ کو پکارتا ہو جن پر اللہ کے سوا کسی اور کو قدرت نہیں ہوتی یا غیر اللہ سے استغاثہ کرتا ہو تو کفار‘ بت پرستوں اور زندیقوں کی طرح اس کا ذبیحہ بھی حلال نہیں ہے کیونکہ اس طرح کے لوگ بھی شرک اور ارتداد کی وجہ سے کافر ہیں‘ لہٰذا ان کا ذبیحہ حلال نہیں ہے۔ ان کے ذبیحوں کی حرمت پر مسلمانوں کے اجماع اور آیت کے مفہوم نے ارشاد باری تعالیٰ: ﴿فَکُلوا مِمّا ذُکِرَ‌ اسمُ اللَّہِ عَلَیہِ...﴿١١٨﴾... سورة الانعام ’’جس چیز پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیا جائے تو اسے کھا لیا کرو‘‘۔ اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَما لَکُم أَلّا تَأکُلوا مِمّا ذُکِرَ‌ اسمُ اللَّہِ عَلَیہِ...﴿١١٩﴾... سورة الانعام ’’اور سبب کیا ہے کہ جس چیز پر اللہ کا نام لیا جائے تم اسے نہ کھائو‘‘ کے عموم کی تخصیص کر دی ہے‘ لہٰذا ان دو اور ان کے ہم معنی آیتوں سے بتوں کے پجاریوں اور ان لوگوں کے ذبیحوں کے حلال ہونے پر جو ان کے ہم معنی ہوں‘ استدلال کرنا صحیح نہیں ہے جو کہ اسلام سے مرتد ہو گئے ہوں اور مردوں اور دیگر غیر اللہ سے استغاثہ دعا کیلئے اصرار کرتے ہوں اور ان سے ایسے امور کیلئے مدد کے طلبگار ہوں جن پر اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی قدرت نہیں رکھتا اور پھر اسے ان کے سامنے دلائل کے ساتھ بیان بھی کر دیا گیا ہو اور اگر وہ باز نہ آئیں تو ان کا یہ شرک جاہلیت اولیٰ کے شرک جیسا ہے۔ اسی طرح ان لوگوں کے ذبیحوں کے حلال ہونے پر اعتماد کرنا بھی صحیح نہیں ہے جو مردوں اور غیر اللہ سے استغاثہ اور ایسے امور کیلئے فریاد کرتے ہوں جو اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہیں۔ خواہ یہ ان پر اللہ تعالیٰ ہی کا نام کیوں نہ لے لیں اور اگران کے ذبیحوں کا آیت کریمہ ﴿انما حرم علیکم المیتة والدم ولحم الخنزیر وما اہل بہ لغیر اللہ بہ )البقرہ‘ ۲/۳۷۱) اور اس کے ہم معنی دیگر آیات میں صراحت کے ساتھ ذکر نہیں ہے تو یہ مردار کی حرمت کے دلائل کے عموم میں داخل ہیں کیونکہ یہ اسلام سے مرتد ہیں کیونکہ انہوں نے ایسے امور کا ارتکاب کیا ہے جو اصل ایمان کے منافی ہیں اور پھر حقیقت حال کے بیان کے باوجود انہوں نے ان امور پر اصرار کیا ہے۔ جس شخص کا یہ گمان ہے کہ امام الدعوۃ شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ اہل نجد کے ذبیحوں کو کھا لیتے تھے حالانکہ وہ زید بن خطاب کو پکارتے تھے تو یہ محض اٹکل پچو اور ایک ایسا دعویٰ ہے جس کے بارے میں شیخ رحمہ اللہ سے کوئی صراحت منقول نہیں ہے بلکہ یہ گمان اس حکم کیخلاف ہے جس پر ان کی کتب و مؤلفات شاہد ہیں کہ جو ان امور میں جن پر اللہ کے سوا کوئی اور قادر نہیں‘ غیر اللہ کو پکارے خواہ وہ کوئی ملک مقرب ہو یا نبی مرسل یااللہ کا کوئی نیک بندہ تو وہ مشرک و مرتد اور خارج  اسلام ہے بلکہ اس کا یہ شرک زمانہ جاہلیت کے لوگوں کے شرک سے بھی زیادہ شدید ہے لہٰذا اس کے اور اس کے ذبیحوں کے بارے میں بھی وہی حکم ہوگا جو زمانہ جاہلیت کے لوگوں کے بارے میں ہے یا اس سے بھی زیادہ سخت حکم ہوگا۔ مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ اہل کتاب کے سوا دیگر تمام کفار کے ذبیحے حرام ہیں‘ خواہ وہ ان پر اللہ تعالیٰ کا نام ہی کیوں نہ لے لیں کیونکہ ذبیحہ پر اللہ کا نام لینا عبادت کی ایک قسم ہے اور عبادت کو جب تک خالص اللہ تعالیٰ کے لئے ادا نہ کیا جائے وہ صحیح نہیں ہوتی کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَلَو أَشرَ‌کوا لَحَبِطَ عَنہُم ما کانوا یَعمَلونَ ﴿٨٨﴾... سورةالانعام ’’اور اگر وہ لوگ شرک کرتے تو جو عمل وہ کرتے تھے سب ضائع ہو جاتے‘‘۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب فتاویٰ اسلامیہ ج3ص447