کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 135
(500) داڑھی کی حد السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ ہمارے استاد محترم جو ایک مدرسہ میں شعبہ  تدریس سے وابستہ ہیں ان کے بقول داڑھی صرف  گا ل اور ٹھوڑی پر ہو تی ہے اور جو بال گھنڈی پر اگتے ہیں چونکہ گردن  کے با ل ہو تے ہیں وہ داڑھی  میں شامل نہیں  اور حدیث میں صرف اتنا ہے ۔ «خالفوا المشرکین قصوا الشوارب واعفوا اللحیٰ»( صحیح البخاری کتاب اللباس باب تقلیم الاظفار(5892) اس میں صرف گا ل ٹھوڑی کے با ل ہی ہو سکتے ہیں گردن کے با ل داڑھی میں شا مل نہیں اس کے کہنے پر ہم نے گردن کے بال اتروادئیے  تو داڑھی کے با لو ں کی حد کیا ہے ؟ الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! اہل لغت نے داڑھی کی تعریف یو ں کی ہے : «شعر الخدین والذقن» (المنجد) یعنی" وہ بال جو دونوں  رخسار اور ٹھوڑی پر اگتے  ہیں ۔" اس سے معلوم ہوا جو بال ان حدود کے ورے  اگتے ہیں وہ داڑھی کی تعریف میں شامل نہیں گھنڈی  اور گردن کے با ل بھی اسی زمرہ میں آتے ہیں ان کو لینا جا ئز ہے ۔موصوف مدرس نے مسئلہ درست بیان فرمایا ہے ۔ واضح ہو کہ ہما رے ہاں بعض متبع سنت حضرات بالخصوص  بعض علما ء  کا عمل  رخساروں کے با ل لینا ہے اس کی صورت گنجا ئش  نہیں نظر آتی کیو نکہ یہ داڑھی میں شامل ہیں لہذا ان کا لینا ناجائز ہے اللہ رب العزت  سب کو ہدایت کی تو فیق بخشے ۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ ج1ص782