کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 1277
(125)ایڈوانس رقم کا حکم السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ اگرگندم کی کٹائی میں دویاتین ماہ لیٹ ہولیکن اس کی کٹائی سےپہلے آدھی قیمت لے کرمالک کسی کو گندم دینے کا وعدہ کرتا ہے تواس کا اسلامی شریعت میں کیا حکم ہے کیا یہ کام ان کا اس فرمان((لاتبع مالیس عندک.))کےمخالف تونہیں ہے۔  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! یہ معاملہ شرعابیع سلم کی صورت کا ہے جسے اہل حجازکی لغت میں بیع سلف کہتے ہیں اس کی صحت کے لیے کچھ شرائط ہیں جن کایقینی طورپرلحاظ رکھناہے۔مثلاجوجنس فروخت ہورہی ہے اس کا مقرراورمعلوم ہوناکب وہ چیزاداکرےگایہ مدت مقررکرناقیمت اوروزن کاطے ہونااوراس جنس کی قیمت اورمقدارحساب کرکے اس کی قیمت اسی میں مجلس نقداداکرناوغیرہ جواحادیث سےمعلوم ہوتے ہیں۔ بلوغ المرام میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینے میں آئے توہم باغوں کے پھلوں کوبیع سلم کے طورپربیچتےتھےجس کی مدت سال یا دوسال یاتین سال مقررکرتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ: ((فلیسلف فی کیل معلوم ووزن معلوم إلی أجل معلوم.)) (متفق علیہ) ‘‘یعنی بیع سلم کروتوناپ تول اورمدت ادائیگی مقررہونی چاہئے۔’’ ابوداؤد وغیرہ میں ہے کہ صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ: ((إن کنا نسلف علی عہدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وابی بکروعمرفی الحنطة والشعیروالتمرولازبیب.)) ابوداود’کتاب البیوع باب فی السلف’رقم  الحدیث:٣٤٦٣. ‘‘یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدمبارک میں اورعہدصدیقی اورعہدفاروقی رجی اللہ عنہما میں ہم گندم کوجوکواورمنقی کھجورکی جنس میں بیع سلف کرتے تھےاوردوسری روایت میں  ہے کہ جن کوہم قیمت دیتے تھے ان کے پاس ہم ان جنسوں کونہیں دیکھاکرتے تھے۔’’ ان دلائل سےمعلوم ہوا کہ ضرورت مندلوگ مالداروں سےاورمالدارتاجریاسوداگرکسان یازمینداروں سے عہدنبوی میں اورعہدخلفاءراشدین میں بیع سلم عام طورپرکی جاتی تھی۔(ماخوذازاخبارتنظیم اہلحدیث14اکتوبر) باقی الاعتصام میں مفتی صاحب کایہ کہنا کہ نہ لینے والالاچاریاعاجزہوکہ نہ لے تواس بات کوگومولانا حصاروی صاحب نے ردکیا ہے لیکن کسی حدتک مجھے یہ بات صحیح سمجھ میں آتی ہےہمارےملک میں ایسے بہت سے رواج ہیں مثلاکسی غریب کو پیسوں کی ضرورت ہے اوراس کے پاس زمین بھی ہے پھرخریدنے والے اس کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی خاطراسے مجبورکرتے ہیں کہ اتنی جنس لیں گے ہم سے بات کرپھر تمہیں پیسے دیں گے پھروہ مجبورہوکران   سے بات کرتا ہے وہ بھی چلنے والے ریٹ سے کافی کم یہ مجھے ظلم سمجھ میں  آتا ہے۔ یہ صورت نہ ہواورغریب کی لاچاری مجبوری سےناجائزفائدہ نہ اٹھاناہوتوپھریہ معاملہ صحیح ہے،البتہ قیمت پوری دینی چاہئے باقی((لاتبع مالیس عندک.))یہ جنس کے علاوہ دوسری چیزوں میں ہے اوریہ ابن سیرین کا قول ہے کہ اناج سٹوں میں ہوتونہ بیچوتویہ اس معاملہ (بیع سلم)سےدوسری صورت ہے یعنی بیع سلم میں ایسا نہیں ہوتاہے کہ اس فلاں زمین سےگندم تمہیں بیچ دیتا ہوں بلکہ محض پیسوں کے عوض جنس بیچ کے دینی ہے جو ایک مدت مقررپراداکی جائے گی پھریہ جنس وہ اپنی اس جنس کے اتارنے کے بعداس سے اداکرےیادوسری جگہ سےلےکردےوہ اس پرمدارہےلہذاوہ معاملہ ابن سیرین والے کہنے کے مخالف نہیں ہے۔یہ صحیح ہے کہ اناج سٹوں میں(اس کے طرف اشارہ کرکے)بیچانہ جائے گا۔ امیدہے کہ اس سے آپ کے سوال کا جواب کسی حدتک حل ہوچکاہوگا۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب فتاویٰ راشدیہ صفحہ نمبر 478