کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 127
کسی لڑکے کو فیس بک پر بھائی بنانا السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ اگر کوئی لڑکی فیس بک پہ کسی لڑکے کو بھائی بنالیتی ہے اور اس سے کوئی غلط بات نہیں کرتی۔ لڑکا بھی بالکل بہن سمجھتا ہے اور کوئی غلط بات نہیں کرتا۔ دونوں میسج کے ذریعے دین کے متعلق باتیں کرتے ہوں تو کیا جائز ہے۔؟ الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! پہلی بات تو یہ ہے کہ بھائی صرف وہی ہو تا ہے جو ماں جایا ،باپ جایا یا رضاعی ہو ،اس کے علاوہ شرعی اعتبار سے کوئی آپ کا بھائی نہیں ہے۔دینی اعتبار سے تو ہر مسلمان ہی آپ کا بھائی ہے ،لیکن ایسے بھائیوں سے پردہ کرنا اور ان سے فضول باتیں کرنا حرام اور ناجائز ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہماری مسلمان بہنوں کو فیس بک جیسے بد نام زمانہ سوشل نیٹ ورک پر اس پر فتن زمانے میں کسی بھی غیر محرم کے ساتھ بات چیت نہیں کرنی چاہئے۔ اگرچہ دینی راہنمائی کے حوالے سے کسی خاتون سے سوال وجواب کرنا جائز ہے ،مگر اس کے لئے دونوں طرف سے سنجیدگی ہونی چاہئے اور دلوں میں کوئی لالچ نہیں ہونا چاہیئے۔اس کے باوجود اس زمانے کے اعتبار سے اس سے بھی بچنا چاہئے،ورنہ فتنے میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہے۔اسے بھائیوں کو چاہئے کہ وہ مرد اہل علم سے راہنمائی حاصل کیا کریں،اور بہنوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنا علم صرف عورتوں میں ہی تقسیم کیا کریں۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب فتوی کمیٹی محدث فتوی