کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 1220
تصویروں اور مجسموں کی تجارت السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ کیا ایک مسلمان کے لیے یہ صحیح ہے کہ وہ تصویروں اور مجسموں کی تجارت کرے اور اس سامان کے ذریعہ وہ گزر بسر کا اہتمام کرے؟  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! کسی بھی مسلمان کے لیے تصویروں اور مجسموں کی بیع اور تجارت جائز نہیں ہے کیونکہ احادیث سے ثابت ہے کہ جاندار اشیاء کی تصویرین اور مجسمے بنانا اور انہیں باقی رکھنا حرام ہے۔ اور ان کی تجارت کے معنی انہیں رواج دینا اور تصویروں کے بنانے اور انہیں گھروں اور محفلوں میں لٹکانے میں مدد دینا ہے اور جب یہ حرام ہے تو پھر تصویروں کو بنانا اور انہیں بیچنا بھی حرام ہے، مسلمان کے لیے ان کی کمائی سے کھانا اور لباس پہننا وغیرہ جائز نہیں ہے۔ اگر کسی نے اس قسم کا کاروبار شروع کر رکھا ہو تو اسے چاہیے کہ اسے فورا ترک کر کے اللہ تعالیٰ سے توبہ کرے، امید ہے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرما لے گا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَإِنّی لَغَفّارٌ‌ لِمَن تابَ وَءامَنَ وَعَمِلَ صـٰلِحًا ثُمَّ اہتَدیٰ ﴿٨٢﴾... سورة طہ "اور جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے، پھر سیدھے راستے پر بھی چلے تو یقینا میں اس کو بخش دینے والا ہوں۔" ہماری طرف سے پہلے بھی ایک فتویٰ صادر ہو چکا ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ تمام جاندار اشیاء کی تصویریں حرام ہیں خواہ وہ مجسم ہوں یا غیر مجسم اور خواہ انہیں تراش کر بنایا گیا ہو یا ہاتھ سے بنایا گیا ہو یا رنگوں کی آمیزش سے بنایا گیا ہو یا کیمرہ وغیرہ سے بنایا گیا ہو۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب محدث فتوی فتویٰ کمیٹی