کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 122
مردوں کے لئے ہاتھ پاؤں پر مہندی لگانا جائز نہیں السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ کیا مردوں کے لئے ہاتھ پاؤں میں مہندی لگانا جائز ہے؟ الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! مرد کے لئے  یہ جائز نہیں  کیو نکہ اس میں عورتوں کے ساتھ مشابہت ہے  اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت فر مائی ہے جو عورتوں کی مشابہت کرتے ہیں  اور ان عورتوں پر لعنت فرمائی  جو مردوں کی مشابہت کرتی ہیں ۔بلکہ ابو داود اپنی سنن((326/2 میں لائے ہیں’’باب الادب ‘‘۔ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مخنث لایا گیا  جس نے ہاتھ پاؤں میں  مہندی لگائی ہو ئی تھی  تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :یہ کیوں کرتا ہے؟‘‘ تو انہوں نے کہا  :یہ عورتوں کی مشابہت کرتا ہے  تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بقیع کی طرف بھگا دینے کا حکم دیا ۔ تو کسی نے کہا : اے اللہ کے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلمٖ آپ اسے قتل کیو ں نہیں کرتے، تو فرمایا :’’مجھے نمازیوں کے قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے ‘‘۔ تو یہ صحیح  حدیث دلالت کرتی  کہ مردوں کے لئے   ہاتھ پاؤں  میں مہندی لگانی جائز نہیں ۔ اور بیماری کی وجہ سے اس کا استعمال  جائز ہے جیسے دلالت کرتا ہے  ان کا  یہ قول :’’ما بال ھٰذا‘‘۔ یعنی یہ کس کے لئے مہندی لگاتا  ہے ،‘‘ اور سنن مین  وارد ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار کی جگہ پر مہندی رکھا کرتے  تھے ۔ رہا  عورتوں کا مہندی لگانا  تو اس کی ترغیب  حدیثوں  میں بکثرت آئی ہے مراجعہ کریں  نیل الاوطار (/6344( اور داڑھی میں مہندی لگانا سنت ہے۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب فتاویٰ الدین الخالص ج1ص403