کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 1218
نقش و نگار والے سونے کا حکم السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ اس سونے کے بیچنے کے بارے میں کیا حکم ہے جس پر نشانات یا تتلی یا سانپ کا سر یا اس طرح کی اور تصویریں بنی ہوں؟  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! سونے اور چاندی کا وہ زیور جس پر کسی جاندار کی تصویریں بنی ہو تو اس کا بیچنا "خریدنا" پہننا اور استعمال کرنا حرام ہے کیونکہ مسلمان کے لیے یہ واجب ہے کہ وہ جاندار اشیاء کی تصویروں کو مٹا کر ختم کر دے جیسا کہ صحیح مسلم میں ابوالھیاج سے روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: (الا ابعثک علی ما بعثنی علیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؟ ان لا تدع صورة الا طمستہا ولا قبرا مشرفا الا سویتہ) (صحیح مسلم‘ الجنائز‘ باب الامر بتسویة القبر‘ ح: 969) "کیا آپ کو بھی اس کام کے لیے نہ بھیجوں جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا؟ اور وہ یہ کہ ہر تصویر کو مٹا دو اور ہر اونچی قبر کو برابر کر دو۔" نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: (ان الملائکة لا تدخل بیتا فیہ صورة ) (صحیح البخاری‘ بدء الخلق‘ باب اذا قال احدکم آمین والملائکة ...الخ‘ حدیث: 3224) "جس گھر میں تصویر ہو اس میں اللہ کی رحمت کے فرشتے داخل ہی نہیں ہوتے۔" لہذا مسلمانوں کے لیے واجب ہے کہ وہ تصویروں والے زیور کے استعمال اور اس کی بیع و شراء سے اجتناب کریں۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب محدث فتوی فتوی ٰکمیٹی